حدیث نمبر: 2516
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا مَهْدي بن ميمون، حدثنا محمد بن عبد الله ابن أبي يعقوب، عن الحسن بن سعد مولى الحسين (1) بن علي، عن عبد الله بن جعفر، قال: أردَفَني رسولُ الله ﷺ ذات يوم خلفه، فأسرَّ إليَّ حديثًا لا أحدِّث به أحدًا من الناس. قال: وكان أحبُّ ما استَتَر به رسول الله ﷺ لحاجتِه هدفًا أو حائشَ نخلٍ، فدخل حائطًا لرجل من الأنصار، فإذا جَمَلٌ فلمّا رأى النبيَّ ﷺ حنَّ إليه، وذَرَفَتْ عيناهُ، فأتاه النبيُّ ﷺ فَمَسَحَ ذِفْراته (1) فَسَكَن، فقال: مَن ربُّ هذا الجَمَل؟ لمن هذا الجَمَل؟ قال: فجاء فتًى من الأنصار فقال هو لي يا رسول الله، فقال: "ألا تتَّقي الله في هذه البَهيمةِ التي مَلّكَكَ الله إياها، فإنّه شَكَا إِليَّ أنك تُجِيعُه وتُدْئبُه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور مجھ سے چپکے سے ایک ایسی بات فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رفعِ حاجت کے لیے کسی اونچی جگہ یا کھجوروں کے جھنڈ کے پیچھے چھپنا زیادہ پسند فرماتے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ انصار کے ایک شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ موجود تھا، جب اونٹ نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ کس کا اونٹ ہے؟“ انصار کا ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لے کر اسے تھکاتے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2516
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. عبد الله بن جعفر: هو ابن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 2516] [ترقيم الشركة 2499] [ترقيم العلميه 2485]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، وكذلك هو في "السنن الصغرى" (2918) للبيهقي عن المصنف

والذي في مصادر ترجمته أنه مولى الحَسَن بن علي، وكذا وقع في مصادر التخريج، وقيل: هو مولى علي بن أبي طالب. وعلى كل حال فهو مولى للبيت العلوي.

فنی نکتہ / علّت: نسخوں اور بیہقی میں 'مصنف' سے مروی ہے، لیکن کتبِ تراجم اور تخریج کے مطابق یہ راوی حضرت حسن بن علی کے مولیٰ ہیں، اور ایک قول کے مطابق حضرت علی بن ابی طالب کے مولیٰ ہیں۔ بہرصورت یہ اہل بیت کے مولیٰ ہیں۔
(1) الذِّفْراة، واحدة، الذِّفْرى، كما قال ابن سيْده في "المخصص" 4/ 482، وهي العظم الناتئ خلف الأذن.
نوٹ / توضیح: 'الذفرۃ' (واحد: الذفریٰ) سے مراد کان کے پیچھے والی ابھری ہوئی ہڈی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. عبد الله بن جعفر: هو ابن أبي طالب.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور احمد بن مہران کی وجہ سے سند حسن ہے، ان کی متابعت موجود ہے۔ عبد اللہ بن جعفر سے مراد ابن ابی طالب ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1745)، ومسلم (342) و (2429)، وأبو داود (2549)، وابن ماجه (340)، وابن حبان (1411) من طرق عن مهدي بن ميمون، بهذا الإسناد. واقتصر مسلم في الموضع الأول وابن ماجه وابن حبان على قطعة الاستتار لقضاء الحاجة، واقتصر مسلم في الموضع الثاني على الشطر الأول.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے مہدی بن میمون کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام مسلم اور دیگر نے بعض مقامات پر صرف قضائے حاجت کے وقت پردے والے حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1754)، وابن حبان (1412) من طريق جرير بن حازم، عن محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، به. ولم يذكر ابن حبان في روايته قصة الجمل.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے جریر بن حازم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابن حبان نے اونٹ والا قصہ ذکر نہیں کیا۔
(3) قد أخرجه مسلم كما سبق، لكنه اختصر المتن!
نوٹ / توضیح: جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے مگر متن میں اختصار کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2516 سے ماخوذ ہے۔