حدیث نمبر: 2489
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة بن الرَّقَاشي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عُليّ بن رَبَاح، عن أبي قَتَادة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "خَيرُ الخيل الأدْهَمُ الأقْرَحُ المحجَّلُ الأرثَم، طَلْقُ اليدِ اليُمنى، فإن لم يكن أدْهَمَ فكُمَيتٌ على هذه الشِّيَةِ" (1).
هذا حديث غريب صحيحٌ، وقد احتجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (1)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2458 - على شرط البخاري ومسلم غريب
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین گھوڑا وہ ہے جو گہرے سیاہ رنگ کا ہو، اس کی پیشانی پر سفید نشان ہو، اس کے تین پاؤں سفید ہوں اور نچلا ہونٹ بھی سفید ہو، جبکہ دایاں اگلا پاؤں (سفیدی سے) خالی ہو، اگر ایسا سیاہ میسر نہ ہو تو پھر سرخی مائل سیاہ (کمیت) ہو جس میں یہی نشانیاں ہوں۔“
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے، شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2489
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2489] [ترقيم الشركة 2472] [ترقيم العلميه 2458]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري - وقد توبع. جرير: هو ابن حازم، وأبو قلابة الرقاشي: هو عبد الملك بن محمد.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ابوقلابہ الرقاشی سے مراد عبدالملک بن محمد ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2789)، والترمذي (1697) عن محمد بن بشار، وابن حبان (4676) من طريق إبراهيم بن محمد بن عَرْعرة، كلاهما عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد. ولكنه شكَّ في رواية ابن عرعرة، فقال: عن عقبة بن عامر أو أبي قتادة، لكن الصحيح أبو قتادة، كما جزم به غيره
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ، ترمذی اور ابن حبان نے اسے روایت کیا ہے۔ اگرچہ ابن حبان کو شک ہوا کہ یہ عقبہ بن عامرؓ کی روایت ہے یا ابو قتادہؓ کی، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابو قتادہؓ کی روایت ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22561) عن حسن بن موسى الأشيب ويحيى بن إسحاق، والترمذي (1696) من طريق عبد الله بن المبارك، ثلاثتهم عن عبد الله بن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، به. وهذا إسناد حسن أيضًا، لأنَّ رواية ابن المبارك عن ابن لهيعة جيدة قبل أن تحترق كتب ابن لهيعة.
فنی نکتہ: ابن لہیعہ کی یہ سند حسن ہے، کیونکہ ابن المبارک نے ان سے ان کی کتابیں جلنے سے پہلے روایت کیا تھا، اور ان کی قدیم روایات معتبر ہوتی ہیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت ملاحظہ کریں۔
الأدهم: الأسود.
لغوی تشریح: "ادھم" سے مراد کالے رنگ کا گھوڑا ہے۔
والأقرح: ما كان في جبهته قُرحة، بالضم، وهو بياض يسير دون الغُرّة.
لغوی تشریح: "اقرح" وہ گھوڑا جس کی پیشانی پر معمولی سی سفیدی ہو (جو "غرہ" یعنی بڑے سفید نشان سے کم ہو)۔
والأرثم: هو الذي أنفه أبيض وشفته العليا.

والمُحجَّل: هو الذي في قوائمه بياض.

لغوی تشریح: "ارثم" جس کی ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو؛ "محجل" جس کے پاؤں سفید ہوں۔
وطلق اليد اليمنى: أي ليس فيها تحجيل.
لغوی تشریح: "طلق الید الیمنیٰ" یعنی جس کا دایاں ہاتھ سفیدی سے خالی ہو۔
والكُميت: هو الذي لونه بين السواد والحمرة، يستوي فيه المذكر والمؤنث.
لغوی تشریح: "کمیت" وہ گھوڑا جس کا رنگ سیاہی اور سرخی کے درمیان ہو۔
والشِّيَة: هو اللون المخالف لغالب اللون.
لغوی تشریح: "شیہ" وہ رنگ جو جسم کے غالب رنگ کے خلاف ہو۔
(1) لم يخرِّج البخاري لعُليّ بن رباح في "صحيحه" شيئًا، إنما أخرج له في "الأدب المفرد".
فنی نکتہ: امام بخاری نے علی بن رباح کی کوئی روایت "صحیح بخاری" میں نہیں لی، صرف "الادب المفرد" میں لی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2489 سے ماخوذ ہے۔