حدیث نمبر: 2485
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال: سمعت معاوية بن صالح يقول: حدثني نُعيم بن زياد، أنه سمع أبا كَبْشة صاحبَ النبي ﷺ يقول عن رسول الله ﷺ قال: "الخيلُ معقودٌ في نَواصِيها الخيرُ، وأهلُها مُعانُون عليها، والمُنفِقُ عليها كالباسِطِ يدَه بالصدقةِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (2). وفيها له شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2454 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر و برکت باندھ دی گئی ہے، ان کے مالکان کی (ان کی پرورش پر) غیبی مدد کی جاتی ہے، اور ان پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنا ہاتھ صدقہ کے لیے پھیلا رہا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2485
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2485] [ترقيم الشركة 2468] [ترقيم العلميه 2454]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ بن وہب ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (4674) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) يعني قوله: "وأهلها مُعانُون" إلى آخر الحديث. وهو كذلك، فقد أخرجه البخاري (2850)، ومسلم (1873) من حديث عروة البارقي، والبخاري (3645) من حديث أنس بن مالك، ومسلم (987) من حديث أبي هريرة، و (1871) من حديث ابن عُمر، و (1872) من حديث جرير بن عبد الله، كلهم بلفظ: "الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة"، زاد جرير في روايته وعروة في بعض رواياته: "الأجر والمغنم".
حوالہ / مصدر: "گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر لکھ دی گئی ہے" والا حصہ بخاری و مسلم میں متعدد صحابہ (عروہ بارقی، انس، ابوہریرہ، ابن عمر، جریر بن عبداللہ) سے مروی ہے۔ جریر اور عروہ کی روایات میں "اجر اور مالِ غنیمت" کا اضافہ بھی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔