المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
كَانَ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: سیدنا علی اور سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ساتھی تھے۔
حدیث نمبر: 2484
أخبرني عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم البَزّاز، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم بن بَهْدَلة، عن زِرٍّ، عن عبد الله بن مسعود، قال: كنا يومَ بدر نَتَعاقَبُ ثلاثةً على بَعيرٍ، فكان عليٌّ وأبو لُبَابة زَمِيلَي رسولِ الله ﷺ، فكانت إذا كانت عُقبةُ رسولِ الله ﷺ يقولان له: اركَبْ حتى نمشيَ، فيقول: "إني لستُ بأَغنى عن الأجر منكما، ولا أنتما بأقوى على المشيِ مِنّي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2453 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم بدر کے دن ایک اونٹ پر تین تین افراد باری باری سوار ہوتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہم سفر (ایک ہی اونٹ پر باری لینے والے) تھے، جب رسول اللہ ﷺ کے پیدل چلنے کی باری آتی تو وہ دونوں عرض کرتے: آپ ﷺ سوار رہیں اور ہم آپ کی جگہ پیدل چلیں گے، تو آپ ﷺ فرماتے: ”نہ تو میں اجر و ثواب حاصل کرنے میں تم دونوں سے بے نیاز ہوں اور نہ ہی تم دونوں پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عاصم بن بَهْدلة: وهو ابن أبي النَّجُود. زِرّ: هو ابن حُبيش.
درجۂ حدیث: عاصم بن بہدلہ (ابن ابی النجود) کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: زر سے مراد زر بن حبیش ہیں۔
وأخرجه أحمد 7/ (3901) و (3965) و (4009) و (4029)، والنسائي (8756) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور امام نسائی نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق أبي الوليد الطيالسي عن حماد برقم (4345).
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے ابو الولید الطیالسی کے طریق سے نمبر (4345) پر آئے گی۔
والعُقْبة، بالضم: ركوب مركب واحد بالنَّوبة على التعاقب.
لغوی تشریح: "العُقبہ" (عین پر پیش کے ساتھ) کا مطلب ہے باری باری ایک ہی سواری استعمال کرنا۔
درجۂ حدیث: عاصم بن بہدلہ (ابن ابی النجود) کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: زر سے مراد زر بن حبیش ہیں۔
وأخرجه أحمد 7/ (3901) و (3965) و (4009) و (4029)، والنسائي (8756) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور امام نسائی نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق أبي الوليد الطيالسي عن حماد برقم (4345).
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے ابو الولید الطیالسی کے طریق سے نمبر (4345) پر آئے گی۔
والعُقْبة، بالضم: ركوب مركب واحد بالنَّوبة على التعاقب.
لغوی تشریح: "العُقبہ" (عین پر پیش کے ساتھ) کا مطلب ہے باری باری ایک ہی سواری استعمال کرنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2484 سے ماخوذ ہے۔