المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ " وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا " باب: اس آیت کے نزول کا سبب: ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان نہ کرو‘‘۔
حدثني علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن إسماعيل بن أُمية، عن أبي الزُّبَير، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ: "لمّا أُصيبَ إخوانُكُم بأحدٍ جعلَ اللهُ أرواحَهم في جَوف طَيرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أنهارَ الجنة، تأكُلُ من ثِمارِها، وتَأوي إلى قَنادِيلَ مِن ذهبٍ مُعَلَّقةٍ في ظِلِّ العَرْشِ، فلما وَجَدُوا طِيبَ مَأكَلِهم ومَشرَبهم ومَقِيلِهم، قالوا: مَن يُبلِّغُ إخوانَنا أنَّا أحياءٌ في الجنةِ نُرزَقُ، لئلّا يَزهَدُوا في الجهاد، ولا يَنْكُلُوا عن الحرب؟ فقال الله ﵎: أنا أُبلِّغهم عنكُم" قال: وأنزلَ اللهُ: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا﴾ [آل عمران: 169] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2444 - على شرط مسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی غزوہ احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے ہیں، اس کے پھل کھاتے ہیں اور عرش کے سائے میں لٹکنے والی سونے کی قندیلوں میں آرام کرتے ہیں، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے اور آرام گاہ کی پاکیزگی و لطافت کو دیکھا تو کہنے لگے: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے جی نہ چرائیں؟ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دیتا ہوں“، راوی کہتے ہیں: تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا﴾ ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھیں۔“ [سورة آل عمران: 169]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرجه أبو داود (2520) عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے کیونکہ انہوں نے سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔ ابن القطان نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2388) من طريق إبراهيم بن سعد الزُّهْري، عن محمد بن إسحاق، به - لكن لم يذكر سعيد بن جبير في إسناده.
فنی نکتہ: امام احمد کی ابراہیم بن سعد والی روایت میں سند سے "سعید بن جبیر" کا نام ساقط ہے، جیسا کہ ابن اسحاق کے اکثر شاگردوں نے بیان کیا ہے۔
وكذلك رواه أكثر أصحاب محمد بن إسحاق، لم يذكروا سعيد بن جبير، وهو كذلك في "سيرة ابن هشام" 2/ 119، لكن جزم ابنُ كثير في "تفسيره" 2/ 141 بأن ذكر سعيد بن جبير في إسناده أثبت. وقال: وكذا رواه سفيان الثَّوري، عن سالم الأفطس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس. قلنا: أخرجه من هذه الطريق البيهقي في "إثبات عذاب القبر" (214) من طريق أبي عامر القاسم بن محمد الأسدي عن سفيان الثَّوري، وأبو عامر هذا روى عنه أبو كُريب وأبو تُميلة ومِنجاب بن الحارث وغيرهم، ولم يُؤثر فيه جرح ولا تعديل، فمثله يعتبر به في المتابعات والشواهد.
فنی نکتہ: ابن کثیر کے نزدیک سند میں سعید بن جبیر کا ذکر ہونا زیادہ ثابت ہے، اور سفیان ثوری کی روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ ابوعامر القاسم الاسدی (شاگردِ ثوری) کی روایت متابعات میں معتبر ہے۔
وأخرجه كذلك البيهقي في "إثبات عذاب القبر" (214) من طريق أسامة بن زيد الليثي، عن إسماعيل بن أمية، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس. ورجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنَّ إسماعيل بن أمية يرويه عن أبي الزُّبَير عن ابن جبير. عن ابن عباس. وهذه متابعة قوية تؤيد صحة ذكر سعيد بن جبير في إسناده، كما رجَّحه البيهقي، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: امام بیہقی نے بھی سعید بن جبیر کے ذکر کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ اگرچہ راویوں میں حرج نہیں، مگر اصح یہ ہے کہ اسماعیل بن امیہ اسے ابوالزبیر کے واسطے سے روایت کرتے ہیں۔ یہ مضبوط متابعت سند میں سعید بن جبیر کے ہونے کی تائید کرتی ہے۔
وانظر ما سيأتي مختصرًا موقوفًا على ابن عباس برقم (3498).
نوٹ / توضیح: ابن عباسؓ پر موقوف مختصر روایت آگے نمبر (3498) پر آئے گی۔
وفي الباب عن عبد الله بن مسعود عند مسلم (1887).
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت صحیح مسلم (1887) میں موجود ہے۔
قوله: "ينكلوا عن الحرب" مثلثة الكاف، أي: يجبنوا ويتأخَّروا عن الجهاد.
نوٹ / توضیح: "ینکلوا" (کاف پر تینوں اعراب کے ساتھ) کا مطلب ہے بزدلی دکھانا یا جہاد سے پیچھے ہٹ جانا۔