المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ باب: مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
حدیث نمبر: 2471
فحدَّثني قال: أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو التَّقِي هشام بن عبد الملك اليَزَني، حدثنا محمد بن حَرْب، عن الزُّبَيدي، حدثني سُلَيم بن عامر، أنه بلَغَه: أنَّ رجلًا سألَ أبا ذَرٍّ: ما مالُكَ؟ قال: مالي عَمَلي، ثم ساق الحديثَ بطوله (1). وقد اتَّفقَ الشيخانِ على إخراج حديث الزُّهْري، عن حُميد بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن أنفقَ زَوجَينِ من مالِه في سبيلِ الله" (2)، وسِياقتُه مخالفةٌ لسِياقةِ حديث صَعْصَعةَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2440 - وفي الصحيحين من حديث أبي هريرة نحوهحافظ طلحہ بابر
سلیم بن عامر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کا مال کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میرا مال میرا عمل ہے“، پھر انہوں نے طویل حدیث بیان کی۔
شیخین نے زہری کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ ”جس نے اللہ کی راہ میں اپنے مال میں سے جوڑا خرچ کیا“، لیکن اس کے الفاظ صعصعہ کی روایت سے مختلف ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه منقطع. الزُّبَيدي: هو محمد بن الوليد.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، راوی ثقہ ہیں مگر سند "منقطع" ہے۔ زبیدی سے مراد محمد بن ولید ہیں۔
(2) أخرجه البخاري (1897)، ومسلم (1027).
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1897) اور امام مسلم (1027) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك البخاري (2841)، ومسلم (1027) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: بخاری و مسلم نے اسے ابوسلمہ بن عبدالرحمن عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، راوی ثقہ ہیں مگر سند "منقطع" ہے۔ زبیدی سے مراد محمد بن ولید ہیں۔
(2) أخرجه البخاري (1897)، ومسلم (1027).
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1897) اور امام مسلم (1027) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك البخاري (2841)، ومسلم (1027) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: بخاری و مسلم نے اسے ابوسلمہ بن عبدالرحمن عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2471 سے ماخوذ ہے۔