المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ باب: مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
سمعتُ أبا حفص عمر بن جعفر البصري الحافظ غيرَ مرّةٍ يقول: ليس للبصريين بابٌ أحسنَ من طُرقِ حديثِ الحسن عن صَعْصَعة. قال الحاكم: فطلبتُ طُرقَ هذا الحديث وجمعتُه، فلما اجتمعنا في الكَرَّة الثانية ببغداد ذاكرتُه به، وأفادَني فيه ما لم يكن عندي، فحدَّثْتُ الحاكمَ أبا أحمد الحافظ ﵀ يومًا بهذه القصة، وذاكَرْتُه به، فقال لي: من حدَّث بهذا الحديث عن أبي ذرٍّ غيرُ صعصعةَ؟ فلم أحفظ.
میں نے ابوحفص عمر بن جعفر بصری حافظ کو کئی مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اہل بصرہ کے پاس امام حسن کی صعصعہ سے مروی حدیث کی سندوں سے بہتر اور کوئی علمی باب نہیں ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: پس میں نے اس حدیث کی سندیں تلاش کیں اور انہیں جمع کیا، پھر جب بغداد میں ہماری دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے مجھے اس بارے میں وہ قیمتی معلومات فراہم کیں جو پہلے میرے پاس نہیں تھیں، پھر ایک دن میں نے حاکم ابواحمد حافظ رحمہ اللہ کو یہ قصہ سنایا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: صعصعہ کے علاوہ اور کس نے یہ حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے؟ تو مجھے یاد نہ رہا۔