المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ باب: مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
حدیث نمبر: 2470M1
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّورِي يقول: سمعتُ يحيى بن مَعين يقول: صعصعةُ بن معاوية هو صاحب أبي ذَرٍّ، وهو أخو جَزِي (2) بن معاوية.
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابوالعباس محمد بن یعقوب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عباس بن محمد دوری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صعصعہ بن معاویہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھی ہیں اور وہ جزی بن معاویہ کے بھائی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) اختلف في ضبط هذا الاسم اختلافًا كثيرًا، كما بيّنه مجدُ الدين بن الأثير في "جامع الأصول" في قسم التراجم ص 266، وصحح أنه جَزْء.
فنی نکتہ: اس نام کے تلفظ میں بہت اختلاف ہے، علامہ ابن الاثیر نے "جامع الاصول" میں تحقیق کے بعد اسے "جَزء" (جیم کے فتحہ اور زاء کے سکون کے ساتھ) صحیح قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ: اس نام کے تلفظ میں بہت اختلاف ہے، علامہ ابن الاثیر نے "جامع الاصول" میں تحقیق کے بعد اسے "جَزء" (جیم کے فتحہ اور زاء کے سکون کے ساتھ) صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2470 سے ماخوذ ہے۔