حدیث نمبر: 2470
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أبي العَوّام الرِّيَاحي، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا أشعث بن عبد الملك، عن الحسن. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى معاذ بن المثنى العَنْبَري، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا يونس، عن الحسن، عن صَعْصَعة بن معاوية، قال: قلتُ لأبي ذَرٍّ: ما مالُكَ؟ قال: لي عَمَلي، لي عَمَلي، قال: قلتُ: حَدِّثني، قال: نعم، قال النبي ﷺ: "ما من عبدٍ يُنفِقُ من كلِّ مالٍ له زَوجَين في سبيلِ الله، إلا استَقبَلَتْه حَجَبةُ الجنةِ، كلُّهم يَدعُوه إلى ما عندَه". قال: قلتُ: وكيف ذاك؟ قال: إن كان رِجالًا فرجُلَين، وإن كان إبلًا فبَعِيرَين، وإن كان بقرًا فبقرتَين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وصَعْصَعة بن معاوية من مَفَاخِر العرب، وقد رواه أصحابُ الحسن عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2439 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا مال میرا عمل ہے، میرا مال میرا عمل ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: ہاں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں اپنے ہر قسم کے مال میں سے جوڑا (دو چیزیں) خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اسے لینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور ہر کوئی اسے اپنی طرف بلاتا ہے“، میں نے پوچھا: وہ کیسے؟ فرمایا: ”اگر غلام ہوں تو دو، اگر اونٹ ہوں تو دو، اور اگر گائیں ہوں تو دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور صعصعہ بن معاویہ عرب کے مایہ ناز لوگوں میں سے ہیں اور حسن بصری کے اصحاب نے اسے ان سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن معین کے مطابق صعصعہ بن معاویہ سیدنا ابوذر کے ساتھی اور جزی بن معاویہ کے بھائی ہیں۔ امام حاکم نے اس حدیث کے طرق جمع کیے اور حفص عمر بن جعفر بصری کے مطابق حسن کی صعصعہ سے روایت کے طرق بصریوں کے نزدیک بہترین باب ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2470
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يونس: هو ابن عُبيد، والحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 2470] [ترقيم الشركة 2453] [ترقيم العلميه 2439]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يونس: هو ابن عُبيد، والحسن: هو البصري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ یونس سے مراد ابن عبید اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں۔
وأخرجه النسائي (4379) عن إسماعيل بن مسعود، عن بشر بن المفضَّل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4379) نے بشر بن مفضل کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21341) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن يونس بن عبيد، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد (21341) نے اسے اسماعیل ابن علیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21358) و (21413)، وابن حبان (4645) من طريق قرة بن خالد، وابن حبان (4643) و (4644) من طريق جرير بن حازم، وأحمد (21453) من طريق هشام بن حسان، ثلاثتهم عن الحسن البصري، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے قرہ بن خالد، جریر بن حازم اور ہشام بن حسان کے طرق سے (حسن بصری سے) روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2470 سے ماخوذ ہے۔