حدیث نمبر: 2453
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن أيوب بن موسى القُرشي، عن مكحول، عن شُرَحْبيل، عن سلمان الفارسي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن رابَطَ يومًا وليلةً في سبيلِ الله كان له أجرُ صيام شهرٍ وقيامِه، ومَن مات مُرابِطًا جَرى له بمثل ذلك الأجرِ، وأُجري عليه الرزقُ، وأُومِنَ من الفَتّان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ولمكحولٍ الفقيهِ فيه مُتابعٌ من الشاميين:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات سرحد کی نگہبانی (رباط) کی، اسے ایک ماہ کے روزوں اور اس کی راتوں کے قیام کا ثواب ملے گا، اور جو مرابط (نگہبان) کی حالت میں فوت ہو گیا، اس کا وہ عمل (قیامت تک) جاری رہے گا، اسے رزق دیا جاتا رہے گا اور وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وشُرَحْبيل: هو ابن السِّمْط.» [ترقيم الرساله 2453] [ترقيم الشركة 2435]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، وشُرَحْبيل: هو ابن السِّمْط.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ، اور شرحبیل سے مراد ابن السمط ہیں۔
وأخرجه مسلم (1913)، والنسائي (4362)، وابن حبان (4623) و (4626) من طرق عن الليث بن سعد بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1913)، نسائی (4362) اور ابن حبان نے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی چوک ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4625) من طريق النعمان بن المنذر الغسّاني، عن مكحول، به بلفظ: "من مات مرابطًا في سبيل الله أُومِنَ عذابَ القبر، ونما له أجره إلى يوم القيامة". وإسناده قوي.
درجۂ حدیث: ابن حبان نے اسے نعمان بن منذر الغسانی عن مکحول کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جو سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرا وہ قبر کے عذاب سے مامون رہا"۔ اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23736) من طريق عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، قال: حدثني من سمع خالد بن معدان يحدّث عن شرحبيل بن السِّمْط، عن سلمان. قلنا: يرويه الثَّوري عن يزيد بن يزيد بن جابر عن خالد بن معدان عند عبد الرزاق (9619)، ولكنه وقفه، وهذا لا يضر لوروده مرفوعًا من أوجه أخرى.
حوالہ / مصدر: امام احمد (23736) نے عبدالرحمن بن ثابت کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ثوری نے اسے "موقوف" روایت کیا ہے، مگر دیگر طرق میں یہ "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) ثابت ہے، اس لیے موقوف ہونا مضر نہیں ہے۔
وأخرجه الترمذي (1665) من طريق محمد بن المنكدر، قال: مر سلمان الفارسي بشرحبيل بن السِّمْط، وهو في مُرابَطٍ له، وقد شقَّ عليه وعلى أصحابه، قال: ألا أحدِّثك يا ابن السِّمْط بحديث سمعتُه من رسول الله ﷺ، فذكره. وقال الترمذي بإثر (1666): إسناده ليس بمتّصل، محمد بن المنكدر لم يدرك سلمان الفارسي.
فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی (1665) نے اسے محمد بن المنکدر عن سلمان کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر فرمایا کہ یہ سند متصل نہیں کیونکہ ابن المنکدر کا حضرت سلمانؓ سے سماع ثابت نہیں۔
وأخرجه أحمد (23727) (23728) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن عبيد الله بن أبي جعفر، عن عبد الله بن أبي زكريا الخزاعي، عن سلمان.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے ابن لہیعہ عن عبیداللہ بن ابی جعفر کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد كذلك (23735) من طريق عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن عبد الله بن أبي زكريا، عن رجل، عن سلمان.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23735) نے عبدالرحمن بن ثابت عن عبداللہ بن ابی زکریا کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
والفَتّان: عذاب القبر، كما وقع في رواية ابن حبان من طريق النعمان الغسّاني.
نوٹ / توضیح: "الفَتّان" سے مراد عذابِ قبر ہے، جیسا کہ ابن حبان کی نعمان الغسانی والی روایت میں صراحت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2453 سے ماخوذ ہے۔