المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
أَحْكَامُ الْكَنْزِ إِذَا وَجَدَهُ الرَّجُلُ باب: دفینہ (کنز) ملنے کے احکام۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال عليّ: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، قال: سَمِعْناه من داود بن شابُور ويعقوب بن عطاء، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ قال في كَنْز وجده رجلٌ، فقال: "إن كنتَ وجدْتَه في قريةٍ مسكونةٍ، أو في سبيلٍ مِيتاءٍ، فعَرِّفْه، وإن كنتَ وجدْتَه في خَرِبةٍ جاهليةٍ، أو في قريةٍ غير مسكونةٍ، أو غير سبيلٍ مِيتاءٍ، ففيه وفي الرِّكازِ الخُمسُ" (2). قد أكثرتُ في هذا الكتاب الحُجَجَ في تصحيح روايات عمرو بن شعيب إذا كان الراوي عنه ثقة، ولا يُذكَر عنه أحسنُ من هذه الروايات، وكنتُ أطلب الحجةَ الظاهرةَ في سماع شعيب بن محمد من عبد الله بن عمرو فلم أصِلْ إليها إلى هذا الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2374 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس خزانے کے بارے میں فرمایا جو کسی شخص کو ملے: ”اگر تو نے اسے کسی آباد بستی میں یا عام گزرگاہ والے راستے میں پایا ہے تو اس کی تشہیر کر، اور اگر تو نے اسے جاہلیت کے کسی ویرانے میں، یا غیر آباد بستی میں، یا ایسی جگہ پایا ہے جو گزرگاہ نہیں ہے، تو اس میں اور ’رکاز‘ (زمین میں دبے ہوئے پرانے خزانے) میں پانچواں حصہ (خمس) واجب ہے۔“
میں نے اس کتاب میں عمرو بن شعیب کی روایات کی تصحیح پر بہت سے دلائل دیے ہیں جب ان سے روایت کرنے والا ثقہ ہو، اور ان روایات سے بہتر کوئی بات ان کے حوالے سے ذکر نہیں کی جاتی، میں شعیب بن محمد کا عبداللہ بن عمرو سے سماع ثابت کرنے کے لیے کسی واضح دلیل کی تلاش میں تھا لیکن ابھی تک اس تک نہیں پہنچ سکا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے؛ الحمیدی اور سفیان بن عیینہ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6891)، وأبو داود (1710)، والنسائي (2285) و (5795 - 5797) من طرق عن عمرو بن شعيب، به. ورواية بعضهم مختصرة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے عمرو بن شعیب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
والطريق المِيتاء، أي: المسلوك، وهو مِفعال من الإتيان، والميم زائدة، وبابه الهمزة.
لغوی تشریح: "طریق میتاء" سے مراد وہ راستہ ہے جس پر لوگ کثرت سے چلتے ہوں (عام گزرگاہ)۔
قال ابن الأثير في "النهاية": الركاز عند أهل الحجاز: كنوز الجاهلية المدفونة في الأرض، وعند أهل العراق: المعادن. والقولان تحتملهما اللغة لأنَّ كلًّا منهما مركوز في الأرض، أي: ثابت. والحديث إنما جاء في التفسير الأول، وهو الكنز الجاهلي.
لغوی تشریح: ابن الاثیر کے مطابق اہلِ حجاز "رکاز" سے مراد زمین میں دبے ہوئے جاہلیت کے خزانے لیتے ہیں، جبکہ اہلِ عراق کے نزدیک اس سے مراد معدنیات ہیں۔ حدیث میں پہلا معنی (خزانہ) مراد ہے۔
وقال أبو الطيب العظيم آبادي في "عون المعبود" 5/ 92 - 93: حديث عمرو بن شعيب فيه حكم للشيئين، الأول: ما وُجد مدفونًا في الأرض، وهو الركاز، والثاني: ما وُجد على وجه الأرض في خربة جاهلية أو قرية غير مسكونة أو غير سبيل مِيتاء، ففيهما الخمس.
فقہی نکتہ: عظیم آبادی کے مطابق اس حدیث میں دو چیزوں کا حکم ہے: ایک وہ جو زمین میں دبا ہوا ملے (رکاز) اور دوسرا وہ جو غیر آباد جگہ یا غیر معروف راستے پر ملے؛ دونوں صورتوں میں "خمس" (پانچواں حصہ) دینا واجب ہے۔