حدیث نمبر: 2394
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثني سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو الأسود، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن بُسر بن سعيد، عن خالد بن عَدِي الجُهني، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "مَن بَلَغَه معروفٌ عن أخيه مِن غير مَسألةٍ ولا إشرافِ نَفْسٍ، فليَقْبَلْه ولا يَرُدَّه، فإنما هو رِزْقٌ ساقَهُ اللهُ إِليهِ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2363 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کے پاس اس کے کسی بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی (ہدیہ یا مال) بغیر مانگے اور بغیر دل کے لالچ کے پہنچے، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کر لے اور اسے واپس نہ کرے، کیونکہ درحقیقت وہ ایک رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2394
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وحسَّنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 7/ 486.» [ترقيم الرساله 2394] [ترقيم الشركة 2376] [ترقيم العلميه 2363]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 2/ 244. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل. وقال الحافظ في "إتحاف المهرة" (4439): صحَّحه ابن حزم وعبد الحق وابن القطان.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے؛ حافظ ابن حجر، ابن حزم، عبد الحق اور ابن القطان سب نے اس کی تصحیح کی ہے۔ ابو الاسود سے مراد محمد بن عبدالرحمن بن نوفل ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17936)، وابن حبان (3404) و (5108) من طرق عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.

وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 11) عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شُريح، عن أبي الأسود، به. فذكر حيوة بن شريح، بدل: سعيد بن أبي أيوب، وقال أبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (592): رواه المقرئ عن حيوة وسعيد بن أبي أيوب جميعًا.

حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ بعض سندوں میں سعید بن ابی ایوب کی جگہ حيوة بن شریح کا نام ہے، اور بغوی کے مطابق راوی (المقری) نے ان دونوں سے یہ روایت سنی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2394 سے ماخوذ ہے۔