المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ باب: جس کے پاس اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی بغیر مانگے اور لالچ کے پہنچے وہ اسے قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 2395
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه في داره بصنعاء وأطعَمَني خَزِيرةً (1) في داره، يحدِّث عن أخيه، عن معاوية بن أبي سفيان، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تُلْحِفُوا في المسألةِ، واللهِ (2) لا يسألُني أحد منكم شيئًا، فتُخرِجَه له مني المسألةُ، فأُعطيَه إياه وأنا كارِهٌ، فيُبارَكَ له في الذي أعطَيتُه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2364 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سوال کرنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو کوئی بھی مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے گا اور اس کا وہ سوال مجھ سے وہ چیز نکلوا لے گا حالانکہ میں اسے وہ چیز دینا ناپسند کرتا ہوں، تو اسے اس دی ہوئی چیز میں برکت نہیں دی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، والذي في مطبوع "مسند الحميدي" وسائر مصادر تخريج الحديث: أطعمني من جوزة في داره.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں جو الفاظ ہیں ان کے برعکس "مسند الحمیدی" اور دیگر مصادر میں الفاظ یہ ہیں: "اس نے مجھے اپنے گھر میں اخروٹ (جوزہ) کھلایا"۔
(2) في (ب): فوالله. وهو كذلك في مطبوعي "مسند الحميدي" وسائر مصادر تخريج الحديث.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) اور مطبوعہ مسند الحمیدی میں "فواللہ" (پس اللہ کی قسم) کے الفاظ موجود ہیں۔
(3) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عُيينة.
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے۔ الحمیدی اور سفیان بن عیینہ اس کے جلیل القدر راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (16893)، ومسلم (1038)، والنسائي (2385)، وابن حبان (3389) من طرق عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح مسلم (1038) اور نسائی وغیرہ میں موجود ہے۔ امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین کی شرط پر موجود ہے۔
والخَزِيرة: لحم يُقطَّع صغارًا ويُصبُّ عليه ماء كثير، فإذا نضج ذُرَّ عليه الدقيق، فإن لم يكن فيها لحم فهي عَصيدة.
لغوی تشریح: "خزیرہ" اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے زیادہ پانی میں پکا کر اوپر سے آٹا چھڑکا جائے؛ اگر گوشت نہ ہو تو اسے "عصیدہ" (حلوہ نما کھانا) کہتے ہیں۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں جو الفاظ ہیں ان کے برعکس "مسند الحمیدی" اور دیگر مصادر میں الفاظ یہ ہیں: "اس نے مجھے اپنے گھر میں اخروٹ (جوزہ) کھلایا"۔
(2) في (ب): فوالله. وهو كذلك في مطبوعي "مسند الحميدي" وسائر مصادر تخريج الحديث.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) اور مطبوعہ مسند الحمیدی میں "فواللہ" (پس اللہ کی قسم) کے الفاظ موجود ہیں۔
(3) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عُيينة.
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے۔ الحمیدی اور سفیان بن عیینہ اس کے جلیل القدر راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (16893)، ومسلم (1038)، والنسائي (2385)، وابن حبان (3389) من طرق عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح مسلم (1038) اور نسائی وغیرہ میں موجود ہے۔ امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین کی شرط پر موجود ہے۔
والخَزِيرة: لحم يُقطَّع صغارًا ويُصبُّ عليه ماء كثير، فإذا نضج ذُرَّ عليه الدقيق، فإن لم يكن فيها لحم فهي عَصيدة.
لغوی تشریح: "خزیرہ" اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے زیادہ پانی میں پکا کر اوپر سے آٹا چھڑکا جائے؛ اگر گوشت نہ ہو تو اسے "عصیدہ" (حلوہ نما کھانا) کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2395 سے ماخوذ ہے۔