المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهْيُ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُنَابَذَةِ باب: محاقلہ، مخاضرة اور منابذة کی بیع سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2375
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا أبو نُعيم الجُرجاني، حدثنا حماد بن الحسن بن عَنبَسة، حدثنا عُمر بن يونس بن القاسم، حدثنا أبي، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس، قال: نهى رسول الله ﷺ عن المُحاقَلَة والمُخاضَرة والمُنابَذة (2). قال الأستاذ أبو الوليد: المخاضَرة أن لا يباعَ شيء منها حتى يحمرَّ أو يَصفرَّ.
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد تفرَّد بإخراجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2344 - صحيح تفرد بإخراجه البخاريحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ (کھیت میں موجود غلے کی کٹی ہوئی فصل کے بدلے بیع)، مخاضرہ (پھل پکنے سے پہلے اس کی بیع) اور منابذہ (کپڑے کو بغیر دیکھے پھینک کر بیع کو لازم کر لینا) سے منع فرمایا۔ استاد ابوالولید نے کہا کہ مخاضرہ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک وہ سرخ یا زرد نہ ہو جائے (یعنی پک نہ جائے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے روایت کرنے میں امام بخاری منفرد ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو نعيم الجُرجاني: هو عبد الملك بن محمد بن عدي الحافظ.
وأخرجه البخاري (2207) عن إسحاق بن وهب، عن عمر بن يونس، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند "صحیح" ہے اور امام بخاری (2207) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
والمحاقلة: اشتراء الزرع بالحنطة، واستكراء الأرض بالحنطة، وكذا تطلق على بيع الزرع القائم بالحَبّ كيلًا.
نوٹ / توضیح: "محاقلہ" سے مراد کھیت میں کھڑی فصل کو گندم کے بدلے خریدنا یا زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دینا ہے۔
والمنابذة: أن ينبذ الرجل إلى الرجل ثوبه وينبذ الآخر ثوبه، ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض. أو هي أن يقول: أنبذ ما معي وتنبذ ما معك، يشتري كلُّ واحدٍ منهما من الآخر، ولا يدري كل واحد منهما كم مع الآخر.
نوٹ / توضیح: "منابذہ" بیع کی ایک جاہلی قسم ہے جس میں ایک دوسرے کی طرف کپڑا پھینکنا ہی بیع سمجھ لیا جاتا تھا، بغیر دیکھے اور بغیر باقاعدہ رضامندی کے۔
وأخرجه البخاري (2207) عن إسحاق بن وهب، عن عمر بن يونس، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند "صحیح" ہے اور امام بخاری (2207) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
والمحاقلة: اشتراء الزرع بالحنطة، واستكراء الأرض بالحنطة، وكذا تطلق على بيع الزرع القائم بالحَبّ كيلًا.
نوٹ / توضیح: "محاقلہ" سے مراد کھیت میں کھڑی فصل کو گندم کے بدلے خریدنا یا زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دینا ہے۔
والمنابذة: أن ينبذ الرجل إلى الرجل ثوبه وينبذ الآخر ثوبه، ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض. أو هي أن يقول: أنبذ ما معي وتنبذ ما معك، يشتري كلُّ واحدٍ منهما من الآخر، ولا يدري كل واحد منهما كم مع الآخر.
نوٹ / توضیح: "منابذہ" بیع کی ایک جاہلی قسم ہے جس میں ایک دوسرے کی طرف کپڑا پھینکنا ہی بیع سمجھ لیا جاتا تھا، بغیر دیکھے اور بغیر باقاعدہ رضامندی کے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2375 سے ماخوذ ہے۔