حدیث نمبر: 2367
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي، حدثنا أَحْيَد بن الحسين البامِيَاني ببَلْخ، حدثنا أزهر بن سليمان (1) الكاتب، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان. وأخبرني عبد الله بن محمد بن حَمَّوَيهِ، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، عن عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، أنه قال: نهى رسولُ الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع الغنائم حتى تُقسَم، وعن الحَبَالى أن يُوطَأنَ حتى يَضَعْنَ ما في بُطونهنَّ، وقال: "لا تَسْقِ زَرْعَ غيرِك"، وعن لحوم الحُمُر الأهليّة، وعن لحم كل ذي نابٍ من السِّباع (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2336 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن مالِ غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، اور حاملہ لونڈیوں سے وضع حمل تک صحبت کرنے سے منع فرمایا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے پانی (نطفہ) سے کسی دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرو“، نیز آپ ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت اور ہر کچلی (نوکیلے دانت) والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،من جهة عبد الله بن محمد بن حمّوية - وهو عبد الله بن محمد بن حمويه بن عباد أبو القاسم بن أبي بكر الطَّهماني - وأما أزهر بن سليمان في الإسناد الأول فقد ضعَّفه أبو الفتح الأزدي. يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 2367] [ترقيم الشركة 2349] [ترقيم العلميه 2336]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سلمان.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام "سلمان" میں تبدیل (تحریف) ہو گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح من جهة عبد الله بن محمد بن حمّوية - وهو عبد الله بن محمد بن حمويه بن عباد أبو القاسم بن أبي بكر الطَّهماني - وأما أزهر بن سليمان في الإسناد الأول فقد ضعَّفه أبو الفتح الأزدي. يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.
درجۂ حدیث: عبداللہ بن محمد الطہمانی کی جہت سے سند "صحیح" ہے، اگرچہ ازہر بن سلیمان کو ازدی نے ضعیف کہا ہے۔ یحییٰ بن سعید سے مراد مشہور راوی "الانصاری" ہیں۔
وأخرجه النسائي (6196) عن أحمد بن حفص بن عبد الله بهذا الإسناد. دون ذكر لحوم الحمر الأهلية، ودون قوله: "لا تَسْقِ زرع غيرك".
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (6196) نے روایت کیا ہے مگر اس میں "گھریلو گدھوں کے گوشت" اور "دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرنے" کا ذکر نہیں۔
لكن قد ثبت هذا الحرفان عند غير المصنف أيضًا كالطبراني في "الأوسط" (6981) والدارقطني (3051) من طريقين آخرين عن أحمد بن حفص بن عبد الله.
متابعات و شواہد: یہ دونوں جملے طبرانی (الاوسط: 6981) اور دارقطنی (3051) کے ہاں دیگر طرق سے ثابت ہیں۔
وأخرج مسلمٌ ذكر النهي عن لحوم الحمر الأهلية برقم (1939) من طريق عامر الشعبي، عن ابن عباس، قال: لا أدري إنما نهى عنه رسول الله ﷺ من أجل أنه كان حَمُولةَ الناسِ، فكره أن تذهب حمولتهم، أو حرَّمه يوم خيبر: لحوم الحمر الأهلية.
حوالہ / مصدر: امام مسلم (1939) نے ابن عباس سے گھریلو گدھوں کی ممانعت نقل کی ہے؛ ابن عباس فرماتے تھے کہ معلوم نہیں یہ ممانعت اس لیے تھی کہ وہ لوگوں کا بوجھ ڈھونے کا ذریعہ تھے یا خیبر کے دن انہیں قطعی حرام کر دیا گیا تھا۔
وسيأتي عن ابن عباسٍ ما يخالف ذلك، وأنه أبَى أن يكون نُهِيَ عن لحوم الحمر الأهلية، برقم (3275) من طريق أبي الشعثاء جابر بن زيد عنه.
اہم نکتہ: ابن عباس سے اس کے خلاف (رقم 3275 پر) مروی ہے کہ وہ گدھے کے گوشت کی ممانعت کا انکار کرتے تھے۔
قال ابن القيم في "حاشيته على سنن أبي داود" 5/ 322: التحقيق أنَّ ابن عباس أباحها أولًا حيث

لم يبلغه النهيُ، فسمع ذلك منه جماعةٌ، منهم أبو الشعثاء وغيره، فرووا ما سمعوه، ثم بلغه النهي عنها، فتوقف هل هو للتحريم أو لأجل كونها حَمُولة، فروى عنه ذلك الشعبي وغيره، ثم لما ناظَرَهُ عليُّ بن أبي طالب جزم بالتحريم، كما رواه عنه مجاهد.

فنی نکتہ / علّت: ابن قیم کے بقول تحقیق یہ ہے کہ ابن عباس پہلے اسے مباح سمجھتے تھے کیونکہ انہیں ممانعت نہیں پہنچی تھی، پھر جب ممانعت کا علم ہوا تو وہ اس کی وجہ (تحریم یا بوجھ ڈھونا) میں متردد ہوئے، اور آخر کار حضرت علی سے مناظرے کے بعد انہوں نے تحریم (حرام ہونے) کا جزم کر لیا۔
وسيتكرر هذا الحديث من هذه الطريق الثانية وحدها برقم (2644).
نوٹ / توضیح: یہ حدیث دوسرے طریق سے دوبارہ رقم (2644) پر آئے گی۔
وانظر ما تقدَّم برقم (2303) و (2304).
نوٹ / توضیح: اس موضوع پر سابقہ روایات رقم (2303) اور (2304) بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2367 سے ماخوذ ہے۔