المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهْيُ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ الْغَزْلِ وَالْخَبْزِ وَالنَّفْشِ باب: لونڈی کی کمائی سے منع کیا گیا سوائے اس کام کے جو وہ اپنے ہاتھ سے کرے، جیسے کاتنا، روٹی پکانا اور روئی دھونکنا۔
حدیث نمبر: 2310
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا طارق بن عبد الرحمن القرشي، قال: جاء رفاعةُ بن رافع إلى مجلس الأنصار، فقال: لقد نهانا رسولُ الله ﷺ اليومَ؛ فذكر أشياء، فقال: نهانا عن كَسْبِ الأَمَة إلَّا ما عَمِلَتْ بيدها (1)؛ وقال هكذا بإصبعه، نحو الغَزْل والخَبْزِ والنَّقْش (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن رافع بن خَديج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2279 - طارق فيه لين ولم يذكر أنه سمعه من رفاعةحافظ طلحہ بابر
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور بتایا کہ آج رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے، آپ ﷺ نے ہمیں لونڈی کی کمائی (جس کی وہ پابند کی گئی ہو) سے منع فرمایا سوائے اس کے جو وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کمائے، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک سے اشارہ کر کے مثال دی جیسے سوت کاتنا، روٹی پکانا یا کڑھائی و نقش نگاری کرنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، وهذا إسناد محتمل للتحسين إلّا أنه مرسلٌ، لأنَّ رفاعة بن رافع هذا تابعي، وهو ابن خَديج، وليس هو رافع بن رفاعة كما وقع مسمَّى في رواية أحمد وأبي داود، وقد جاء على الصواب في رواية المصنف هنا، وكذلك في رواية ابن منده في "معرفة الصحابة" 1/ 586 من طريق عبد الرحمن بن غزوان عن عكرمة بن عمار، وكذلك جاء في رواية الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (4657) من طريق عمر بن يونس اليمامي عن عكرمة، إلّا أنه قال في روايته: عن رفاعة بن رافع أو رافع بن رفاعة، بالشك، والظاهر أنَّ هذا الشك والاختلاف من طارق بن عبد الرحمن المذكور - وهو ابن القاسم القرشي - وقد وثقه العجلي وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال في "مشاهير علماء الأمصار": من سادات أهل المدينة، ولم يرو عنه غير عكرمة بن عمار.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔ یہ سند تحسین کا احتمال رکھتی ہے مگر "مرسل" ہے، کیونکہ رفاعہ بن رافع تابعی ہیں اور یہ ابنِ خدیج ہیں۔
فنی نکتہ: ان کا نام رافع بن رفاعہ نہیں ہے جیسا کہ احمد اور ابوداؤد کی روایت میں واقع ہوا، یہاں مصنف کی روایت میں درست (رفاعہ بن رافع) درج ہے۔ طارق بن عبدالرحمن کے بارے میں عجلی نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وممّا يُقوّي كونه رفاعة بن رافع بن خديج أنَّ الحديث روي من وجه آخر من طُرق عن أبي بَلْج يحيى بن سليم عن عَبَاية بن رفاعة بن رافع بن خديج مرسلًا كذلك، ورواه حُصين بن نمير عن أبي بَلْج فزاد فيه ذكر رفاعة بن رافع، وروايته عند الطبراني في "الكبير" (4407)، وانفرد بذلك من بين سائر أصحاب أبي بَلْج، فالصحيح أنه في رواية أبي بلج هذه عن عَبَاية بن رفاعة بن رافع مرسلًا.
متابعات و شواہد: اس بات کی تقویت کہ یہ رفاعہ بن رافع بن خدیج ہی ہیں، اس سے ہوتی ہے کہ یہ حدیث دوسرے طرق سے ابوبلج عن عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے بھی مرسل روایت ہوئی ہے۔ طبرانی (4407) میں حصین بن نمیر نے رفاعہ بن رافع کا تذکرہ بڑھایا ہے، مگر درست یہی ہے کہ یہ ابوبلج کی روایت میں عبایہ سے مرسل ہی ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف بعده لرافع بن خديج، وإسناده حسن، وهو يُقوِّي أنَّ المرسل الذي هنا لولده رفاعة، إذ لعله يكون سمعه منه. وإذا علمنا ذلك فباجتماع مرسلَي رفاعة وولده عباية مع الموصول الذي بعده عن رافع بن خديج، يحسُنُ الحديث إن شاء الله، ولا يبعد أن يكونا إنما سمعاه من رافع بن خديج، فلكليهما سماعٌ منه، والله أعلم بالصواب.
درجۂ حدیث: مصنف کے ہاں اگلی حدیث رافع بن خدیج سے آئے گی جس کی سند حسن ہے، جو اس بات کی تقویت کرتی ہے کہ یہ مرسل روایت ان کے بیٹے رفاعہ کی ہی ہے۔ ان دونوں مرسل روایات اور اگلی موصول روایت کے مجموعے سے یہ حدیث "حسن" ہو جاتی ہے، ان شاء اللہ۔
وأخرجه أحمد 31/ (18998) عن هاشم بن القاسم، وأبو داود (3426) عن هارون بن عبد الله، عن هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد. غير أنهما قالا: رافع بن رفاعة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31/ (18998) اور ابوداؤد (3426) نے ہاشم بن قاسم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر انہوں نے نام "رافع بن رفاعہ" بیان کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17268) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، عن شعبة، عن أبي بَلْج، عن عباية بن رفاعة مرسلًا. وانظر تمام تخريجه في "المسند".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 28/ (17268) نے شعبہ عن ابی بلج عن عبایہ بن رفاعہ سے مرسل روایت کیا ہے۔ مکمل تخریج کے لیے "المسند" دیکھیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
وقد صحَّ النهيُ عن كسبِ الأَمَة مطلقًا دون تقييد ذلك من حديث أبي جحيفة وحديث أبي هريرة، وكلاهما عند البخاري (2238) و (2283).
مجموعی اصول / قاعدہ: لونڈی کی کمائی سے مطلق ممانعت (بغیر قید کے) ابوجحیفہ اور ابوہریرہ کی حدیث سے ثابت ہے، جو کہ بخاری (2238) اور (2283) میں موجود ہے۔
وأخرج مالك في "موطئه" 2/ 981 عن عثمان بن عفان قال: لا تُكلِّفوا الأَمة غير ذاتِ الصَّنْعةِ الكسبَ، فإنكم متى كلَّفتموها ذلك كَسَبَت بفرجها. وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: امام مالک نے "موطا" 2/ 981 میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: "تم اس لونڈی کو کمائی پر مجبور نہ کرو جو کوئی ہنر نہ جانتی ہو، کیونکہ جب تم اسے مجبور کرو گے تو وہ اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائے گی"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
(1) كذلك أُعجمت في (ز)، بالقاف، وكذلك في مطبوع "السنن الكبرى" للبيهقي 6/ 126 عن أبي عبد الله الحاكم، بإسناده، ووقع في رواية أحمد وأبي داود: النفش، بالفاء بدل القاف، والنفش - بالفاء -: ندف القطن والصوف، والنقش - بالقاف -: التطريز والتزيين.
فنی نکتہ: نسخہ (ز) اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (6/ 126) میں یہ لفظ "النقش" (قاف کے ساتھ) ہے، جبکہ احمد اور ابوداؤد کی روایت میں "النفش" (فا کے ساتھ) ہے۔ "النفش" کا مطلب روئی یا اون دھننا ہے، جبکہ "النقش" کا مطلب کڑھائی اور تزئین و آرائش ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔ یہ سند تحسین کا احتمال رکھتی ہے مگر "مرسل" ہے، کیونکہ رفاعہ بن رافع تابعی ہیں اور یہ ابنِ خدیج ہیں۔
فنی نکتہ: ان کا نام رافع بن رفاعہ نہیں ہے جیسا کہ احمد اور ابوداؤد کی روایت میں واقع ہوا، یہاں مصنف کی روایت میں درست (رفاعہ بن رافع) درج ہے۔ طارق بن عبدالرحمن کے بارے میں عجلی نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وممّا يُقوّي كونه رفاعة بن رافع بن خديج أنَّ الحديث روي من وجه آخر من طُرق عن أبي بَلْج يحيى بن سليم عن عَبَاية بن رفاعة بن رافع بن خديج مرسلًا كذلك، ورواه حُصين بن نمير عن أبي بَلْج فزاد فيه ذكر رفاعة بن رافع، وروايته عند الطبراني في "الكبير" (4407)، وانفرد بذلك من بين سائر أصحاب أبي بَلْج، فالصحيح أنه في رواية أبي بلج هذه عن عَبَاية بن رفاعة بن رافع مرسلًا.
متابعات و شواہد: اس بات کی تقویت کہ یہ رفاعہ بن رافع بن خدیج ہی ہیں، اس سے ہوتی ہے کہ یہ حدیث دوسرے طرق سے ابوبلج عن عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے بھی مرسل روایت ہوئی ہے۔ طبرانی (4407) میں حصین بن نمیر نے رفاعہ بن رافع کا تذکرہ بڑھایا ہے، مگر درست یہی ہے کہ یہ ابوبلج کی روایت میں عبایہ سے مرسل ہی ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف بعده لرافع بن خديج، وإسناده حسن، وهو يُقوِّي أنَّ المرسل الذي هنا لولده رفاعة، إذ لعله يكون سمعه منه. وإذا علمنا ذلك فباجتماع مرسلَي رفاعة وولده عباية مع الموصول الذي بعده عن رافع بن خديج، يحسُنُ الحديث إن شاء الله، ولا يبعد أن يكونا إنما سمعاه من رافع بن خديج، فلكليهما سماعٌ منه، والله أعلم بالصواب.
درجۂ حدیث: مصنف کے ہاں اگلی حدیث رافع بن خدیج سے آئے گی جس کی سند حسن ہے، جو اس بات کی تقویت کرتی ہے کہ یہ مرسل روایت ان کے بیٹے رفاعہ کی ہی ہے۔ ان دونوں مرسل روایات اور اگلی موصول روایت کے مجموعے سے یہ حدیث "حسن" ہو جاتی ہے، ان شاء اللہ۔
وأخرجه أحمد 31/ (18998) عن هاشم بن القاسم، وأبو داود (3426) عن هارون بن عبد الله، عن هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد. غير أنهما قالا: رافع بن رفاعة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31/ (18998) اور ابوداؤد (3426) نے ہاشم بن قاسم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر انہوں نے نام "رافع بن رفاعہ" بیان کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17268) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، عن شعبة، عن أبي بَلْج، عن عباية بن رفاعة مرسلًا. وانظر تمام تخريجه في "المسند".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 28/ (17268) نے شعبہ عن ابی بلج عن عبایہ بن رفاعہ سے مرسل روایت کیا ہے۔ مکمل تخریج کے لیے "المسند" دیکھیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
وقد صحَّ النهيُ عن كسبِ الأَمَة مطلقًا دون تقييد ذلك من حديث أبي جحيفة وحديث أبي هريرة، وكلاهما عند البخاري (2238) و (2283).
مجموعی اصول / قاعدہ: لونڈی کی کمائی سے مطلق ممانعت (بغیر قید کے) ابوجحیفہ اور ابوہریرہ کی حدیث سے ثابت ہے، جو کہ بخاری (2238) اور (2283) میں موجود ہے۔
وأخرج مالك في "موطئه" 2/ 981 عن عثمان بن عفان قال: لا تُكلِّفوا الأَمة غير ذاتِ الصَّنْعةِ الكسبَ، فإنكم متى كلَّفتموها ذلك كَسَبَت بفرجها. وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: امام مالک نے "موطا" 2/ 981 میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: "تم اس لونڈی کو کمائی پر مجبور نہ کرو جو کوئی ہنر نہ جانتی ہو، کیونکہ جب تم اسے مجبور کرو گے تو وہ اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائے گی"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
(1) كذلك أُعجمت في (ز)، بالقاف، وكذلك في مطبوع "السنن الكبرى" للبيهقي 6/ 126 عن أبي عبد الله الحاكم، بإسناده، ووقع في رواية أحمد وأبي داود: النفش، بالفاء بدل القاف، والنفش - بالفاء -: ندف القطن والصوف، والنقش - بالقاف -: التطريز والتزيين.
فنی نکتہ: نسخہ (ز) اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (6/ 126) میں یہ لفظ "النقش" (قاف کے ساتھ) ہے، جبکہ احمد اور ابوداؤد کی روایت میں "النفش" (فا کے ساتھ) ہے۔ "النفش" کا مطلب روئی یا اون دھننا ہے، جبکہ "النقش" کا مطلب کڑھائی اور تزئین و آرائش ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2310 سے ماخوذ ہے۔