المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2297
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سُفيان. وحدثنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أُميّة، عن عبد الله بن يزيد، عن زيدٍ أبي عياش، عن سَعْد بن مالك قال: سُئل رسول الله ﷺ عن الرُّطَبِ بالتمر، فقال: "أينقُصُ إذا يَبِسَ؟ " قالوا: نعم، قال: فنَهَى عنه (1). وقد تابعهما يحيى بن أبي كثير على روايته عن عبد الله بن يزيد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا خشک ہونے پر یہ کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهْدي.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
توضیح: ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین اور ابو حذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
وأخرجه النسائي (6092) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6092) نے محمد بن یوسف الفریابی کے طریق سے سفیان ثوری کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
توضیح: ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین اور ابو حذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
وأخرجه النسائي (6092) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6092) نے محمد بن یوسف الفریابی کے طریق سے سفیان ثوری کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2297 سے ماخوذ ہے۔