حدیث نمبر: 2296
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا إسماعيل بن أمية، عن عبد الله بن يزيد، عن أبي عياش، قال: تبايَعَ رجلان على عهد سعد بن أبي وقّاص بسُلْتٍ وشعير، فقال سعد بن أبي وقاص: تبايَعَ رجلان على عهد رسول الله ﷺ ببُسْر ورُطَبٍ، فقال رسول الله ﷺ: "هل ينقُصُ الرُّطَبُ إِذا يَبِس؟ " قالوا: نعم، قال: "فلا إذًا" (1). وهكذا رواه سفيانُ الثَّوْري عن إسماعيل بن أمية:
حافظ طلحہ بابر

ابوعیاش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دور میں دو آدمیوں نے سلت اور جو کا تبادلہ کیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دو آدمیوں نے کچی اور تازہ کھجور کا سودا کیا تھا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تازہ کھجور خشک ہونے پر کم ہو جاتی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسا مت کرو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2296
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه. الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان شيخُه: هو ابن عُيينة.» [ترقيم الرساله 2296] [ترقيم الشركة 2278]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح كسابقه. الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان شيخُه: هو ابن عُيينة.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ سند کی طرح "صحیح" ہے
توضیح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن زبیر المکی ہیں اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1552) عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1552) نے سفیان بن عیینہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
والبُسْر: هو ثمر النخل قبل أن يرطب.
توضیح: "البُسْر" کھجور کے اس پھل کو کہتے ہیں جو ابھی پک کر نرم (رطب) نہ ہوا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2296 سے ماخوذ ہے۔