المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي باب: میری شفاعت میری امت کے گناہگاروں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 229
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري وأبو بكر بن زَنجَوَيهِ وأبو بكر بن عَسكَر وإسحاق بن رُزيق، قالوا: حدثنا عبد الرزاق. وحدثنا عليٌّ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ قال: "شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجا حديث قَتَادة عن أنس بطوله (2)، ومن تَوهَّم أنَّ هذه لفظة من الحديث (3) فقد وَهِم، فإنَّ هذه شفاعة فيها قَمْعُ المبتدِعة المفرِّقة بين الشفاعة لأهل الصغائر والكبائر. وله شاهدٌ بهذا اللفظ عن قتادة وأشعثَ بن جابر الحُدَّاني. أما حديث قتادة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے قتادہ کی طویل حدیث روایت کی ہے۔ جس کسی کو یہ وہم ہو کہ یہ الفاظ اسی طویل حدیث کا حصہ ہیں تو وہ غلطی پر ہے، کیونکہ یہ (مختصر) شفاعت والی روایت ان بدعتیوں کے رد میں ہے جو صغیرہ اور کبیرہ گناہگاروں کی شفاعت کے درمیان فرق کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (2435)، وابن حبان (6468) من طرق عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2435) اور ابن حبان (6468) نے عبدالرزاق کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وانظر الحديثين التاليين.
نوٹ / توضیح: اگلی دو احادیث کو ملاحظہ کریں۔
(2) هو عند البخاري برقم (4476)، ومسلم برقم (193) (322).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث صحیح بخاری میں نمبر (4476) اور صحیح مسلم میں نمبر (193) اور (322) کے تحت موجود ہے۔
(3) أي: حديث قتادة عن أنس عندهما.
فنی نکتہ / علّت: یعنی بخاری و مسلم دونوں کے ہاں یہ قتادہ عن انس کی روایت سے ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (2435)، وابن حبان (6468) من طرق عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2435) اور ابن حبان (6468) نے عبدالرزاق کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وانظر الحديثين التاليين.
نوٹ / توضیح: اگلی دو احادیث کو ملاحظہ کریں۔
(2) هو عند البخاري برقم (4476)، ومسلم برقم (193) (322).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث صحیح بخاری میں نمبر (4476) اور صحیح مسلم میں نمبر (193) اور (322) کے تحت موجود ہے۔
(3) أي: حديث قتادة عن أنس عندهما.
فنی نکتہ / علّت: یعنی بخاری و مسلم دونوں کے ہاں یہ قتادہ عن انس کی روایت سے ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 229 سے ماخوذ ہے۔