المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْ فِي عَفَافٍ باب: جو اپنا حق مانگے وہ شرافت اور حیا کے ساتھ مانگے۔
حدیث نمبر: 2270
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو هَمّام محمد بن محبَّب، حدثنا سعيد بن السائب (1) الطائفي، عن عبد الله بن يامِينَ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ لِصاحبِ الحقّ: "خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ" وأحسبه قال: "وافٍ أو غيرُ وافٍ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحبِ حق سے فرمایا: ”اپنا حق پاکدامنی اور خوش اخلاقی کے ساتھ وصول کرو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”چاہے حق پورا ملے یا نہ ملے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سعيد بن ياسين، وجميع من خرَّج الحديث قال فيه: سعيد بن السائب، وهذا رجل معروف، ولا يُعرف من الرواة من اسمه سعيد بن ياسين غير واحدٍ يَصغُر عن سعيد بن السائب الطائفي، ذكره الخطيب في "تاريخه" 10/ 122، وهو بَلْخي لا طائفي.
علّت / فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "سعید بن یاسین" ہو گیا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "سعید بن السائب" ہے جو کہ معروف راوی ہیں، جبکہ سعید بن یاسین نامی راوی ان سے بہت بعد کے دور کے ہیں۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الله بن يامين، فقد روى عنه جماعة من الثقات، ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل، فيمكن تحسين حديثه، لكن لا ندري هل سمع هذا الحديث من أبي هريرة أم لا، فأنه قد روى عن أبيه أنه شهد جنازة عبد الله بن عباس كما رواه أحمد في "فضائل الصحابة" (1907) وغيره، ومعلوم أنَّ ابن عباس توفي سنة ثمان وستين بالطائف، وأبو هريرة توفي سنة سبع أو ثمان أو تسع وخمسين، فالظاهر أنه لم يسمع منه، وقد أورد البخاري في ترجمته في "تاريخه الكبير" 5/ 234 - 235 روايته عن أبيه في قصة جنازة ابن عباس، وأورد أيضًا روايته عن أبي هريرة، ولم يجزم بسماعه منه، فكأنه توقّف، والله تعالى أعلم بالصواب.
وأخرجه ابن ماجه (2422) عن محمد بن المؤمّل بن الصبّاح، عن محمد بن محبَّب، بهذا الإسناد. بتمام لفظه دون شك.
حکم / درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، اگرچہ عبد اللہ بن یامین کی ابوہریرہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے (کیونکہ انہوں نے ابن عباس کا جنازہ دیکھا جو ابوہریرہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے)
اہم نکتہ: امام بخاری نے بھی ان کے سماع پر جزم نہیں کیا، لیکن چونکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے نقل کیا ہے اور ابن ماجہ (2422) میں بھی یہ موجود ہے، اس لیے یہ حسن کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
علّت / فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "سعید بن یاسین" ہو گیا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "سعید بن السائب" ہے جو کہ معروف راوی ہیں، جبکہ سعید بن یاسین نامی راوی ان سے بہت بعد کے دور کے ہیں۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الله بن يامين، فقد روى عنه جماعة من الثقات، ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل، فيمكن تحسين حديثه، لكن لا ندري هل سمع هذا الحديث من أبي هريرة أم لا، فأنه قد روى عن أبيه أنه شهد جنازة عبد الله بن عباس كما رواه أحمد في "فضائل الصحابة" (1907) وغيره، ومعلوم أنَّ ابن عباس توفي سنة ثمان وستين بالطائف، وأبو هريرة توفي سنة سبع أو ثمان أو تسع وخمسين، فالظاهر أنه لم يسمع منه، وقد أورد البخاري في ترجمته في "تاريخه الكبير" 5/ 234 - 235 روايته عن أبيه في قصة جنازة ابن عباس، وأورد أيضًا روايته عن أبي هريرة، ولم يجزم بسماعه منه، فكأنه توقّف، والله تعالى أعلم بالصواب.
وأخرجه ابن ماجه (2422) عن محمد بن المؤمّل بن الصبّاح، عن محمد بن محبَّب، بهذا الإسناد. بتمام لفظه دون شك.
حکم / درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، اگرچہ عبد اللہ بن یامین کی ابوہریرہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے (کیونکہ انہوں نے ابن عباس کا جنازہ دیکھا جو ابوہریرہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے)
اہم نکتہ: امام بخاری نے بھی ان کے سماع پر جزم نہیں کیا، لیکن چونکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے نقل کیا ہے اور ابن ماجہ (2422) میں بھی یہ موجود ہے، اس لیے یہ حسن کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2270 سے ماخوذ ہے۔