حدیث نمبر: 2269
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن نافع، عن ابن عمر وعائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن طَلَبَ حقًّا فليطلُبْ في عَفافٍ، وافٍ أو غيرُ وافٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2238 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا حق طلب کرے تو اسے پاکدامنی اور شائستگی کے ساتھ طلب کرنا چاہیے، چاہے اسے حق پورا ملے یا نہ ملے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2269
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري، وأخرجه ابن ماجه (2421)، وابن حبان (5080) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2269] [ترقيم الشركة 2251] [ترقيم العلميه 2238]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري.

وأخرجه ابن ماجه (2421)، وابن حبان (5080) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.

حکم / درجۂ حدیث: یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند "حسن" ہے
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2421) اور ابن حبان (5080) نے سعید بن ابی مریم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال ابن حبان: قوله ﷺ: "في عفاف" شرطٌ أُريد به الزجر عن ضد العفاف مما لا يحلّ استعماله.
اہم نکتہ: ابن حبان فرماتے ہیں کہ "عفاف" (پاکدامنی) کی شرط اس لیے لگائی گئی تاکہ حرام طریقوں سے بچنے کی تاکید کی جا سکے۔
وقوله: "وافٍ أو غيرُ وافٍ" قال السندي في "حاشيته على سنن ابن ماجه" 2/ 78: أي: فليطلبه حال كونه ساعيًا في عدم الوقوع في المحارم مهما أمكن، تم له العفاف أم لا، وهذا المعنى هو ظاهر اللفظ، ويحتمل أن يجعل وافٍ حالًا عن الحق على أنه مجرور في اللفظ على الجوار، ويُحتمل أن يكون مرفوعًا، والجملة حال، أي: هو وافٍ، أي: الحق، فلا يتعدى إلى المحارم، سواء وصل إليه وافيًا أم لا، وهذا المعنى أمتن.
توضیح: "وافٍ أو غيرُ وافٍ" کا مطلب ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کرے چاہے اس میں اسے پورا عفاف (پاکدامنی) حاصل ہو یا نہ ہو
اہم نکتہ: علامہ سندھی کے مطابق زیادہ بہتر معنی یہ ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ اس حال میں کرے کہ حرام کاموں سے بچنے کی پوری کوشش کرے، چاہے حق پورا ملے یا نہ ملے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2269 سے ماخوذ ہے۔