المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ باب: اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو جب تک قرض ادا نہ ہو جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2245
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصغَاني، حدثنا يحيى بن حماد وعفان بن مسلم، قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن فِراسٍ. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد ابن الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحارِبي، عن يزيد الدّالاني، عن فِراسٍ. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزُوق، حدثنا شعبة، عن فِراسٍ، عن الشعبي، عن سَمُرةَ بن جُندب، قال: صلَّى رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ، فقال: "ها هنا أحدٌ من بني فُلانٍ؟ " فنادى ثلاثًا لا يجيبه أحدٌ، ثم قال: "إنَّ الرجلَ الذي ماتَ بينكم قد احتُبِس عن الجنة مِن أجْلِ الدَّين الذي عليه، فإن شئتُم فافْدُوه، وإن شئتُم فأسلِمُوه إلى عذابِ الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لخلافٍ فيه من سعيدِ بن مَسروق الثَّوْري.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی اور تین مرتبہ پوچھا: ”کیا یہاں بنو فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ جب کسی نے جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے درمیان جس شخص کا انتقال ہوا ہے وہ اپنے ذمے واجب الادا قرض کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے، اب اگر تم چاہو تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑا لو، اور اگر چاہو تو اسے اللہ کے عذاب کے حوالے کر دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ سعید بن مسروق ثوری کی روایت میں اس پر اختلاف پایا گیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح كسابقه. فراس: هو ابن يحيى المُكتِب، وأبو مسلم: هو الكَجِّي الحافظ. وأخرجه أحمد 33/ (20232) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند بھی سابقہ کی طرح "صحیح" ہے
توضیح: فراس سے مراد ابن یحییٰ المکتب اور ابومسلم سے مراد الکجّی الحافظ ہیں
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20232) نے عفان بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند بھی سابقہ کی طرح "صحیح" ہے
توضیح: فراس سے مراد ابن یحییٰ المکتب اور ابومسلم سے مراد الکجّی الحافظ ہیں
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20232) نے عفان بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2245 سے ماخوذ ہے۔