المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ باب: اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو جب تک قرض ادا نہ ہو جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2244
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، حدثني عامرٌ الشَّعبي، عن سَمُرة بن جُندُب، قال: صلَّى رسولُ الله ﷺ ذاتَ يومٍ، فلما أقبَلَ قال: "ها هنا مِن بني فُلانٍ أحدٌ؟ " فسكتَ القومُ - وكان إذا ابتغاهم بشيء سكتوا - ثم قال: "ها هنا من بني فُلانٍ أحدٌ؟ "، فقال رجلٌ: هذا فُلانٌ، فقال: "إنَّ صاحِبَكم قد حُبِسَ على باب الجنةِ بدَينٍ كان عليه" فقال رجلٌ: عَليَّ دَينُه، فقَضَاه (1). وهكذا رواه فراسٌ عن الشعبي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو پوچھا: ”کیا یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی موجود ہے؟“ لوگ خاموش رہے - اور جب آپ ﷺ کسی سے کچھ دریافت کرتے تو وہ ادب کی وجہ سے خاموش ہو جاتے تھے - آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا: ”کیا یہاں بنو فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ ایک آدمی بولا: جی یہ فلاں موجود ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی اپنے قرض کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: اس کا قرض میرے ذمے ہے، چنانچہ اس نے وہ ادا کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وقد وقع تصريح الشعبي بسماعه هذا الحديثَ من سمرة عند أبي داود الطيالسي (932)، وسيأتي برقم (2246) أنَّ الشعبي رواه عن سمرة بواسطة سِمعان بن مُشَنَّج، وهو قوي الحديث، لكن لا يُنكر سماعُ الشعبي من سمرة أيضًا، فقد كان عمر الشعبي عند وفاة سمرة قريب الثمانية والثلاثين عامًا، فكيف إذا انضم إلى ذلك تصريحه بالسماع عند الطيالسي، فلا يبعد عند ذلك أن يكون الشعبيُّ قد سمعه على الوجهين، والله أعلم بالصواب.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
علّت / فنی نکتہ: امام شعبی نے حضرت سمرہ سے اس حدیث کے سماع کی صراحت ابوداؤد الطیالسی (932) کے ہاں کی ہے، اگرچہ آگے نمبر (2246) پر آئے گا کہ شعبی نے اسے سِمعان بن مشنّج کے واسطے سے روایت کیا ہے، لیکن شعبی کا سمرہ سے براہِ راست سننا بعید نہیں کیونکہ سمرہ کی وفات کے وقت شعبی کی عمر 38 سال کے قریب تھی، لہٰذا ممکن ہے انہوں نے اسے دونوں طریقوں سے سنا ہو۔
وأخرجه أحمد 33/ (20124) من طريق شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20124) نے شعبہ عن اسماعیل بن ابی خالد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد تابع إسماعيلَ بنَ أبي خالد فراسُ بنُ يحيى، كما في الطريق التالية، والعلاء بن عبد الكريم الياميّ عند الطبراني في "الأوسط" (3049)، وإسناده قويّ.
متابعات و شواہد: اسماعیل بن ابی خالد کی تائید فراس بن یحییٰ (اگلی روایت میں) اور العلاء بن عبدالکریم نے طبرانی (الاوسط 3049) میں کی ہے جس کی سند قوی ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
علّت / فنی نکتہ: امام شعبی نے حضرت سمرہ سے اس حدیث کے سماع کی صراحت ابوداؤد الطیالسی (932) کے ہاں کی ہے، اگرچہ آگے نمبر (2246) پر آئے گا کہ شعبی نے اسے سِمعان بن مشنّج کے واسطے سے روایت کیا ہے، لیکن شعبی کا سمرہ سے براہِ راست سننا بعید نہیں کیونکہ سمرہ کی وفات کے وقت شعبی کی عمر 38 سال کے قریب تھی، لہٰذا ممکن ہے انہوں نے اسے دونوں طریقوں سے سنا ہو۔
وأخرجه أحمد 33/ (20124) من طريق شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 20124) نے شعبہ عن اسماعیل بن ابی خالد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد تابع إسماعيلَ بنَ أبي خالد فراسُ بنُ يحيى، كما في الطريق التالية، والعلاء بن عبد الكريم الياميّ عند الطبراني في "الأوسط" (3049)، وإسناده قويّ.
متابعات و شواہد: اسماعیل بن ابی خالد کی تائید فراس بن یحییٰ (اگلی روایت میں) اور العلاء بن عبدالکریم نے طبرانی (الاوسط 3049) میں کی ہے جس کی سند قوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2244 سے ماخوذ ہے۔