حدیث نمبر: 22
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن سلمان الفقيهان قالا: حدثنا عبُيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، حدثني محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "المسلمُ مَن سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه، والمؤمنُ مَن أَمِنَه الناسُ على دمائِهم وأموالِهم" (2). قد اتفقا على إخراج طرف حديث: "المسلمُ من سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه" (1)، ولم يُخرجا هذه الزيادةَ وهي صحيحةٌ على شرط مسلم. وفي هذا الحديث زيادةٌ أخرى على شرطه ممّا لم يخرجاها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 22 - لم يخرج مسلم نصفه الثاني
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مال کے بارے میں بے خوف ہو جائیں۔“
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے حدیث کے ایک حصے ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“ کی تخریج پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس (مومن والی) زیادتی کو روایت نہیں کیا حالانکہ یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اس حدیث میں امام مسلم کی شرط پر ایک اور زیادتی بھی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 22
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبيد بن شريك ، وهو عبيد بن عبد الواحد بن شريك - ومحمد بن عجلان- أبو صالح: هو ذكوان السَّمَّان، والليث هو ابن سعد، ويحيى بن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير-» [ترقيم الرساله 22] [ترقيم الشركة 22] [ترقيم العلميه 22]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل عبيد بن شريك - وهو عبيد بن عبد الواحد بن شريك - ومحمد بن عجلان. أبو صالح: هو ذكوان السَّمَّان، والليث هو ابن سعد، ويحيى بن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبید بن شریک اور محمد بن عجلان کی وجہ سے "قوی" ہے۔ ابو صالح: ذکوان السمان، لیث: ابن سعد، یحییٰ بن بکیر: یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر۔
وأخرجه أحمد 14/ (8931)، والترمذي (2627)، والنسائي في "المجتبى" (4995)، وابن

حبان (180) من طريقين عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.

حوالہ / مصدر: اسے احمد، ترمذی (2627)، نسائی اور ابن حبان نے لیث بن سعد سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے "حسن صحیح" کہا۔
وله شاهد بلفظه من حديث فَضَالة بن عبيد، وهو الآتي عند المصنف برقم (24)، وسنده صحيح.
متابعات و شواہد: اس کا ہم لفظ شاہد فضالہ بن عبید کی حدیث سے ہے جو مصنف کے ہاں (24) پر آئے گی، اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
(1) أخرجاه من حديثَي عبد الله بن عَمْرو وأبي موسى الأشعري: البخاري (10) و (11)، ومسلم (40) و (42)، والزيادة التي أشار المصنف إلى أنهما لم يخرجاها هي قوله: "المؤمن من أمنه … " إلخ.
حوالہ / مصدر: شیخین نے اسے عبد اللہ بن عمرو اور ابو موسیٰ اشعری سے نکالا ہے (بخاری: 10، 11، مسلم: 40، 42)۔
فنی نکتہ / علّت: جس زیادتی کی طرف مصنف نے اشارہ کیا وہ یہ ہے: "مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں رہیں..."۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔