المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: سچا، دیانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔
حدیث نمبر: 2172
أخبرَناه علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا يَعلى بن عُبيد، حدثنا سفيان، عن أبي حمزة، عن الحسن، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "التاجرُ الصَّدوق الأمينُ مع النبيين والصِّدِّيقين والشهداء" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن بما قبله، وهذا إسناد رجاله ثقات غير أنَّ الحسن - وهو البصري - لم يسمع من أبي سعيد الخُدْري فيما نصَّ عليه بهز بن أسد وابن المديني وابن معين وأشار إليه الحاكم هنا.
حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ حدیث
حسن ہے۔ اگرچہ حسن بصری کا ابو سعید خدریؓ سے سماع ثابت نہیں، مگر دوسری روایات اسے تقویت دیتی ہیں۔
سفيان: هو الثَّوري، وأبو حمزة: هو عبد الله بن جابر البصري.
راویوں کی شناخت: سفیان ثوری اور ابو حمزہ بصری اس سند کے اہم راوی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1209) من طريقين عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے سفیان ثوری کے دو طرق سے روایت کیا اور اسے
"حسن" قرار دیا۔
حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ حدیث
حسن ہے۔ اگرچہ حسن بصری کا ابو سعید خدریؓ سے سماع ثابت نہیں، مگر دوسری روایات اسے تقویت دیتی ہیں۔
سفيان: هو الثَّوري، وأبو حمزة: هو عبد الله بن جابر البصري.
راویوں کی شناخت: سفیان ثوری اور ابو حمزہ بصری اس سند کے اہم راوی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1209) من طريقين عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے سفیان ثوری کے دو طرق سے روایت کیا اور اسے
"حسن" قرار دیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2172 سے ماخوذ ہے۔