حدیث نمبر: 2138
فحدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه بالطابَران وأبو نصر الفقيه ببُخارى، قالا: حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، حدثني طلحة بن مُصرِّف، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البراء قال: قال رسول الله ﷺ: "زَيِّنوا القرآنَ بأصواتِكم" (1). قال عبد الرحمن: وكنت نُسِّيتُ هذه الكلمةَ حتى ذكَّرَنيه الضحاكُ بن مُزاحِم (2). قال الحاكم: قد حدَّثَ بهذا الحديث جماعةٌ عن شعبة عن طلحة، الحديثَ بطولِه، ولم يذكر هذه اللفظة "كنت نُسِّيتُ" غيرُ يحيى بن سعيد ومعاذ العَنْبري.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔“ عبدالرحمن نے کہا: میں یہ کلمہ بھول گیا تھا یہاں تک کہ ضحاک بن مزاحم نے مجھے یہ یاد دلایا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: ایک جماعت نے شعبہ سے یہ طویل حدیث روایت کی ہے لیکن ”میں بھول گیا تھا“ کے الفاظ یحییٰ بن سعید اور معاذ عنبری کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو النضر الفقيه: هو محمد بن محمد بن يوسف، وأبو نصر الفقيه: هو أحمد بن سهل، كنية الأول بالضاد المعجمة، والثاني بالصاد المهملة، ويحيى بن سعيد: هو القطان.» [ترقيم الرساله 2138] [ترقيم الشركة 2119]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو النضر الفقيه: هو محمد بن محمد بن يوسف، وأبو نصر الفقيه: هو أحمد بن سهل، كنية الأول بالضاد المعجمة، والثاني بالصاد المهملة، ويحيى بن سعيد: هو القطان.
حکم / درجۂ حدیث: سند
صحیح ہے۔ ابوالنضر (محمد بن محمد) اور ابو نصر (احمد بن سہل) دونوں ثقہ ہیں، اور یحییٰ القطان اس کے مرکزی راوی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1342) عن محمد بن بشار، والنسائي (1090) عن عمرو بن علي الفلّاس، كلاهما عن يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد. ولم يذكر ابن ماجه في روايته مقالة عبد الرحمن بن عوسجة في آخره.
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ اور نسائی نے اسے یحییٰ القطان کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابن ماجہ نے آخری حصہ ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه ابن ماجه (1342) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے شعبہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
(2) يعني أنَّ الضحاك بن مزاحم، هو أحد مَن سمعه مِن عبد الرحمن بن عوسجة، لكننا لم نقف عليه من طريقه عن عبد الرحمن بن عوسجَة، فالظاهر أنَّ أحدًا لم يحمله عنه.
فنی نکتہ: ضحاک بن مزاحم نے بھی اسے عبدالرحمن بن عوسجہ سے سنا ہے، مگر ان کے طریق سے مروی کوئی باقاعدہ سند ہمیں نہیں مل سکی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2138 سے ماخوذ ہے۔