المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ باب: برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 211
حدثنا أبو أحمد حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا نُعيم بن حمَّاد. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا وارث (1) بن عبيد الله، قالا: حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا خالد بن مهران الحَذَّاء، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "البَرَكةُ مع أكابركم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 210 - على شرط البخاريحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في النسخ الخطية، وهو مسمَّى في مصادر ترجمته عبد الوارث.
فنی نکتہ / تصحیح: خطی نسخوں میں یہ نام اسی طرح ہے، مگر راویوں کے حالات کی کتب (کتب الرجال) میں ان کا نام "عبدالوارث" صراحت سے موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح، نعيم بن حماد وعبد الوارث بن عبيد الله يشدُّ أحدهما الآخر، وقد توبعا.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے کیونکہ نعیم بن حماد اور عبدالوارث بن عبیداللہ ایک دوسرے کی تقویت کر رہے ہیں اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (559) من طريق الوليد بن مسلم، عن ابن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (559) نے ولید بن مسلم عن ابن مبارک کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / تصحیح: خطی نسخوں میں یہ نام اسی طرح ہے، مگر راویوں کے حالات کی کتب (کتب الرجال) میں ان کا نام "عبدالوارث" صراحت سے موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح، نعيم بن حماد وعبد الوارث بن عبيد الله يشدُّ أحدهما الآخر، وقد توبعا.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے کیونکہ نعیم بن حماد اور عبدالوارث بن عبیداللہ ایک دوسرے کی تقویت کر رہے ہیں اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (559) من طريق الوليد بن مسلم، عن ابن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (559) نے ولید بن مسلم عن ابن مبارک کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 211 سے ماخوذ ہے۔