المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
آيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ فَيَقْرَبُهَا الشَّيْطَانُ ثَلَاثَ لَيَالٍ باب: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات، جس گھر میں پڑھی جائیں وہاں تین راتوں تک شیطان قریب نہیں آتا۔
حدیث نمبر: 2091
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي الزاهريّة، عن جُبير بن نُفير، عن أبي ذرٍّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله خَتَمَ سورةَ البقرة بآيتين أعطانِيهما من كَنْزِه الذي تحت العرش، فتعلَّمُوهنَّ وعَلِّمُوهُنَّ نِساءَكم وأبناءَكم، فإنها صلاةٌ وقرآنٌ ودعاءٌ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري (1)، ولم يُخرجاه. وقد رواه عبد الله بن وهب عن معاوية بن صالح مرسلًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کا اختتام دو ایسی آیات پر فرمایا ہے جو اس نے مجھے اپنے اس خزانے سے عطا فرمائی ہیں جو عرش کے نیچے ہے، پس تم انہیں خود بھی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ، کیونکہ یہ (تلاوت) نماز بھی ہے، قرآن بھی ہے اور دعا بھی ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبداللہ بن وہب نے اسے معاویہ بن صالح سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح دون قوله: "فتعلَّموهن وعلِّموهن" إلى آخر الحديث، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث. وقد خالفه عبد الله بن وهب ومعن بن عيسى القزاز، وهما ثقتان، فأرسلا الحديث، وكذلك رواه عبد الله بن صالح مرةً مرسلًا. وقد جاء شطر الحديث الأول من وجه آخر عن أبي ذر، وله شواهد تقدم ذكرها عند الحديث (2089).
حکم / درجۂ حدیث: حدیث کا پہلا حصہ صحیح ہے، مگر "فتعلموہن" (انہیں سیکھو) والے الفاظ کی سند عبداللہ بن صالح کے سوءِ حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2181) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد القاسم بن سلّام في "فضائل القرآن" ص 233 عن عبد الله بن صالح، عن معاوية، عن أبي الزاهرية، عن جبير بن نفير، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: ابو عبید نے اسے عبداللہ بن صالح کے طریق سے جبیر بن نفیر سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وستأتي رواية عبد الله بن وهب المرسلة في الطريق التالية عند المصنف، وتخريج طريق معن هناك.
ہدایت: ابن وہب کی مرسل روایت اگلی سند میں اور معن بن عیسیٰ کی روایت وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرج شطره الأول أحمد 35/ (21344) من طريق زهير بن معاوية، والبيهقي في "شعب الإيمان" (2182) من طريق سفيان الثَّوري، كلاهما عن منصور بن المعتمر، عن ربعي بن حراش، عن زيد بن ظبيان، عن أبي ذر، لكن قال زهير: عن زيد بن ظبيان أو عن رجل، على الشك.
متابعات و شواہد: پہلا حصہ امام احمد اور بیہقی نے ثوری اور زہیر بن معاویہ کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر زہیر کی روایت میں شک پایا جاتا ہے۔
وخالفهما جرير بن عبد الحميد عند أحمد (21343)، فقال: عن منصور، عن ربعي، عمن حدثه عن أبي ذر.
سندی اختلاف: جریر بن عبدالحمید نے اسے مبہم راوی کے واسطے سے روایت کر کے مخالفت کی ہے۔
وخالفهم شيبان بن عبد الرحمن عند أحمد أيضًا (21345) و (21564)، فقال: عن منصور، عن ربعي، عن خَرَشة بن الحُرِّ أو عن المعرور بن سُويد، عن أبي ذر. وقد سقط حرف "أو" من أصولنا الخطية لـ "مسند أحمد"، ويُستدرك من "أطراف المسند" (8019) ومن "إتحاف المهرة" (17497)، كلاهما لابن حجر، ومن "جامع المسانيد" لابن كثير (12166)، ويؤيدهم إيراد الدارقطني لهذا الاختلاف في "العلل" (1101)، وعنده: عن ربعي عن خرشة بن الحر والمعرور عن أبي ذر، هكذا بالعطف.
سندی اختلاف: شیبان نے سند میں "خرشہ بن الحر" یا "معرور بن سوید" کا ذکر کیا ہے۔ دارقطنی نے "العلل" میں اس اختلاف کی وضاحت کی ہے۔
فصار الاختلاف بين ذكر زيد بن ظبيان وبين خرشة بن الحر أو المعرور بن سويد، وزيد بن ظبيان لم يرو عنه غير ربعي، وذكره ابن حبان في الثقات، وخرشة والمعرور ثقتان وعلى أي حالٍ فيصلح هذا الطريق للمتابعة.
متابعات و شواہد: زید بن ظبیان اور خرشہ/معرور کے درمیان اختلاف کے باوجود یہ سند متابعت کے لیے درست ہے۔
(1) كذا قال الحاكم، مع أنَّ معاوية بن صالح وأبا الزاهرية وجبير بن نفير من رجال مسلم، وليسوا من رجال البخاري، وإنما أخرج لهم البخاري خارج الصحيح!
نوٹ / توضیح: حاکم کا انہیں بخاری کا راوی کہنا محلِ نظر ہے کیونکہ بخاری نے ان سے صرف "الصحیح" کے باہر روایت لی ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: حدیث کا پہلا حصہ صحیح ہے، مگر "فتعلموہن" (انہیں سیکھو) والے الفاظ کی سند عبداللہ بن صالح کے سوءِ حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2181) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد القاسم بن سلّام في "فضائل القرآن" ص 233 عن عبد الله بن صالح، عن معاوية، عن أبي الزاهرية، عن جبير بن نفير، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: ابو عبید نے اسے عبداللہ بن صالح کے طریق سے جبیر بن نفیر سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وستأتي رواية عبد الله بن وهب المرسلة في الطريق التالية عند المصنف، وتخريج طريق معن هناك.
ہدایت: ابن وہب کی مرسل روایت اگلی سند میں اور معن بن عیسیٰ کی روایت وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرج شطره الأول أحمد 35/ (21344) من طريق زهير بن معاوية، والبيهقي في "شعب الإيمان" (2182) من طريق سفيان الثَّوري، كلاهما عن منصور بن المعتمر، عن ربعي بن حراش، عن زيد بن ظبيان، عن أبي ذر، لكن قال زهير: عن زيد بن ظبيان أو عن رجل، على الشك.
متابعات و شواہد: پہلا حصہ امام احمد اور بیہقی نے ثوری اور زہیر بن معاویہ کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر زہیر کی روایت میں شک پایا جاتا ہے۔
وخالفهما جرير بن عبد الحميد عند أحمد (21343)، فقال: عن منصور، عن ربعي، عمن حدثه عن أبي ذر.
سندی اختلاف: جریر بن عبدالحمید نے اسے مبہم راوی کے واسطے سے روایت کر کے مخالفت کی ہے۔
وخالفهم شيبان بن عبد الرحمن عند أحمد أيضًا (21345) و (21564)، فقال: عن منصور، عن ربعي، عن خَرَشة بن الحُرِّ أو عن المعرور بن سُويد، عن أبي ذر. وقد سقط حرف "أو" من أصولنا الخطية لـ "مسند أحمد"، ويُستدرك من "أطراف المسند" (8019) ومن "إتحاف المهرة" (17497)، كلاهما لابن حجر، ومن "جامع المسانيد" لابن كثير (12166)، ويؤيدهم إيراد الدارقطني لهذا الاختلاف في "العلل" (1101)، وعنده: عن ربعي عن خرشة بن الحر والمعرور عن أبي ذر، هكذا بالعطف.
سندی اختلاف: شیبان نے سند میں "خرشہ بن الحر" یا "معرور بن سوید" کا ذکر کیا ہے۔ دارقطنی نے "العلل" میں اس اختلاف کی وضاحت کی ہے۔
فصار الاختلاف بين ذكر زيد بن ظبيان وبين خرشة بن الحر أو المعرور بن سويد، وزيد بن ظبيان لم يرو عنه غير ربعي، وذكره ابن حبان في الثقات، وخرشة والمعرور ثقتان وعلى أي حالٍ فيصلح هذا الطريق للمتابعة.
متابعات و شواہد: زید بن ظبیان اور خرشہ/معرور کے درمیان اختلاف کے باوجود یہ سند متابعت کے لیے درست ہے۔
(1) كذا قال الحاكم، مع أنَّ معاوية بن صالح وأبا الزاهرية وجبير بن نفير من رجال مسلم، وليسوا من رجال البخاري، وإنما أخرج لهم البخاري خارج الصحيح!
نوٹ / توضیح: حاکم کا انہیں بخاری کا راوی کہنا محلِ نظر ہے کیونکہ بخاری نے ان سے صرف "الصحیح" کے باہر روایت لی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2091 سے ماخوذ ہے۔