المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 2087
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا حسين بن علي الجُعْفي، عن زائدة، عن عاصم، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "اقرؤوا سورةَ البقرةِ في بُيوتكم، فإنَّ الشيطانَ لا يدخُلُ بيتًا يُقرأ فيه سورةُ البقرة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں سورہ بقرہ پڑھا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف في رفعه ووقفه كما بيناه عند الحديث المتقدم برقم (2083). يوسف بن موسى: هو التُّسْتَري.
حکم / درجۂ حدیث: "صحیح لغیرہ" ہے، راویوں میں حرج نہیں مگر رفع و وقف کا اختلاف (نمبر 2083 کی طرح) یہاں بھی ہے۔ یوسف بن موسیٰ سے مراد "تستری" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2163) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8643) من طريق معاوية بن عمرو، عن زائدة، به موقوفًا.
حوالہ / مصدر: طبرانی نے اسے زائدہ کے طریق سے "موقوف" روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: "صحیح لغیرہ" ہے، راویوں میں حرج نہیں مگر رفع و وقف کا اختلاف (نمبر 2083 کی طرح) یہاں بھی ہے۔ یوسف بن موسیٰ سے مراد "تستری" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2163) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8643) من طريق معاوية بن عمرو، عن زائدة، به موقوفًا.
حوالہ / مصدر: طبرانی نے اسے زائدہ کے طریق سے "موقوف" روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2087 سے ماخوذ ہے۔