حدیث نمبر: 2036
أخبرني أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أصبَغُ بن الفَرَج المصري وهارون بن مَعروف البغدادي، قالا: حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حُيَيّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عَمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا جاءَ الرجل يعودُ مَريضًا فليقل: اللهمَّ اشْفِ عبدَك يَنكَأُ لك عدوًّا، أو يَمشي لك إلى صلاةٍ" (1).
هذا حديث مِصري صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي في هذا الباب حديثٌ آخرُ من حديث الكوفيين:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلَاةٍ» ”اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا عطا فرما تاکہ یہ تیری خاطر دشمن کو زیر کرے یا تیری رضا کے لیے نماز کی طرف چل کر آئے۔““
یہ مصری راویوں کی بیان کردہ صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں اہل کوفہ کی ایک اور حدیث بھی مروی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 2036
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل حُيّي بن عبد الله» [ترقيم الرساله 2036] [ترقيم الشركة 2020]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف من أجل حُيّي بن عبد الله - وهو المَعافِري - فهو ضعيف عند التفرد، وقد تفرَّد بهذا الحديث كما قال الحافظ في "نتائج الأفكار" 4/ 189، ومع ذلك حسَّنه!
درجۂ حدیث: یہ سند حی بن عبد اللہ المعافری کی وجہ سے "ضعیف" ہے کیونکہ وہ تفرد کی صورت میں کمزور مانے جاتے ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اس کے باوجود اسے "حسن" کہا ہے!
وقد تقدَّم هذا الحديثُ برقم (1289) من طريق أبي الطاهر بن السَّرْح عن ابن وهب.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث پہلے نمبر (1289) پر ابن السرح عن ابن وہب کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2036 سے ماخوذ ہے۔