المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الذِّكْرُ عِنْدَ الِاضْطِجَاعِ وَالدُّعَاءُ عِنْدَ الْيَقَظَةِ باب: لیٹتے وقت ذکر کرنے اور جاگنے کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2035
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا صَدَقة بن الفضل، حدثنا أبو هَمّام الأهوازي، حدثنا ثَور بن يَزيدَ، عن خالد بن مَعْدان عن زُهير الأَنْماري، قال: كان رسولُ الله ﷺ إِذا أَخَذَ مَضْجَعَه قال: "اللهم اغفِرْ لي ذَنْبي، واخسَ شيطاني، وفُكَّ رِهاني، وثَقِّل مِيزاني، واجعلْني في المَلأ الأعلى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زہیر الانماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَاخْسَأْ شَيْطَانِي، وَفُكَّ رِهَانِي، وَثَقِّلْ مِيزَانِي، وَاجْعَلْنِي فِي الْمَلَأِ الْأَعْلَى» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو ذلیل کر کے بھگا دے، میرا گروی رکھا ہوا نفس چھڑا دے (مجھے جہنم سے آزادی دے)، میرے (نیکیوں کے) ترازو کو بھاری کر دے اور مجھے بلند پایہ فرشتوں کی محفل میں جگہ عطا فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قويٌّ من أجل أبي همام الأهوازي - وهو محمد بن الزِّبْرقان - وقد توبع كما تقدَّم تخريجه عند الطريق السالفة برقم (2005) حيث تقدَّم الحديث هناك من طريق أبي زكريا يحيى بن يزيد الأهوازي عن أبي همام الأهوازي
درجۂ حدیث: یہ "صحیح" حدیث ہے اور ابو ہمام الاہوازی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔ اس کی متابعت پہلے نمبر (2005) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ "صحیح" حدیث ہے اور ابو ہمام الاہوازی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔ اس کی متابعت پہلے نمبر (2005) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2035 سے ماخوذ ہے۔