المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الِاعْتِدَاءُ فِي الدُّعَاءِ وَالطَّهُورُ باب: دعا اور طہارت میں حد سے بڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2003
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يوسف بن عَدِي، حدثنا عَثّام بن علي، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إذا تَضوَّر عن الليل قال: "لا إله إلَّا اللهُ الواحدُ القهار، ربُّ السماواتِ والأرضِ وما بينَهما العزيزُ الغَفّار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت کروٹ بدلتے (یا بے چینی محسوس کرتے) تو یہ دعا فرماتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا اور سب پر غالب ہے، جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اور نہایت زبردست اور بہت بخشنے والا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات، لكن خولف عثّام بن علي في إسناده، خالفه جرير بن عبد الحميد كما قال أبو حاتم وأبو زُرعة فيما نقله عنهما ابن أبي حاتم في "العلل" (197) و (1987) و (2054) فرواه عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يقوله هو نفسُه. وأنكرا جميعًا رفعه، ومع ذلك حسَّنه الحافظُ في "نتائج الأفكار" 3/ 103 مع حكايته قول أبي حاتم وأبي زرعة فيه.
فنی نکتہ: عثام بن علی کی مخالفت جریر بن عبد الحمید نے کی ہے اور اسے "موقوف" قرار دیا ہے۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔
وأخرجه مرفوعًا النسائي (7641) و (10634)، وابن حبان (5530) من طرق عن يوسف بن عديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً نسائی اور ابن حبان نے یوسف بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: عثام بن علی کی مخالفت جریر بن عبد الحمید نے کی ہے اور اسے "موقوف" قرار دیا ہے۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔
وأخرجه مرفوعًا النسائي (7641) و (10634)، وابن حبان (5530) من طرق عن يوسف بن عديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً نسائی اور ابن حبان نے یوسف بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2003 سے ماخوذ ہے۔