المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الِاسْتِغْفَارُ عِنْدَ الْقِيَامِ مِنَ الْمَجْلِسِ باب: مجلس سے اٹھتے وقت استغفار کا بیان۔
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُويسي وأحمد بن الحسين اللَّهَبي، قالا: حدثنا داود بن قيس الفَرّاء، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن قال: سبحانَ الله وبحمْدِه، سبحانَك اللهمَّ وبحمْدِك، أشهدُ أن لا إله إلَّا أنتَ، أستغفِرُك وأتوبُ إليك، فقالها في مجلسِ ذكرٍ، كانت كالطابَع يُطبَعُ عليه، ومن قالها في مجلسِ لغوٍ، كانت كفّارةً له" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي بَرْزة الأسلَمي:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں“، پس اگر اس نے یہ کلمات کسی ذکر کی مجلس میں کہے تو یہ اس مجلس کی نیکیوں پر مہر (محافظ) ثابت ہوں گے، اور اگر کسی لغو یا فضول باتوں والی مجلس میں کہے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرِہ" ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اس کے متصل یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے، اور راجح قول کے مطابق یہ "مرسل" ہے۔
وأخرجه النسائي (10185) من طريق عبد الجبار بن العلاء عن سفيان بن عيينة، عن محمد بن عجلان، عن مسلم بن أبي حرَّة وداود بن قيس، عن نافع بن جبير، عن أبيه.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10185) نے سفیان بن عیینہ عن ابن عجلان عن مسلم بن ابی حرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي أيضًا (10186) من طريق محمد بن يحيى بن أبي عمر العدني، عن سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، عن مسلم بن أبي حرة، عن نافع بن جبير، مرسلًا.
وأخرجه النسائي (10086) من طريق سفيان بن عيينة، عن داود بن قيس الفراء، عن نافع بن جبير، مرسلًا كذلك.
حوالہ / مصدر: نسائی (10186) اور (10086) میں یہ روایت ابن عجلان اور داود بن قیس کے طریق سے "مرسل" (تابعی کی روایت براہِ راست نبی ﷺ سے) مروی ہے۔
وعلى أي حالٍ فللحديث شواهد تقدَّم ذكرها عند حديث أبي هريرة السابق.
متابعات و شواہد: بہر حال اس حدیث کے کئی شواہد ابو ہریرہ کی سابقہ حدیث کے تحت ذکر ہو چکے ہیں۔