المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
إِنَّ جَبْرَائِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَونَ الطِّينَ باب: جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں کیچڑ ڈالتے تھے
حدیث نمبر: 190
حدثنا أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازي، حدثنا محمد بن عبد الأعلى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، أخبرني عَدِيُّ بن ثابت وعطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ أنه ذكر: "أَنَّ جبريل جَعَلَ يَدُسُّ في فم فرعونَ الطينَ خَشْية أن يقول: لا إله إلَّا الله، فيرحمه الله"، أو قال: "خشية أن يرحمه الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 189 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے اس اندیشے سے کہ کہیں وہ «لا اله الا الله» نہ کہہ دے اور اللہ اس پر رحم فرما دے“، یا فرمایا: ”اس اندیشے سے کہ اللہ اس پر رحم نہ فرما دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا كسابقه.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے کی صورت میں صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3108) عن محمد بن عبد الأعلى بهذا الإسناد. وأشار إلى أن أحد الرجلين - أي عطاء بن السائب وعدي بن ثابت - ذكره عن النبي ﷺ، أي: مرفوعًا، والذي رفعه هو عدي بن ثابت كما تقدَّم، وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3108) نے محمد بن عبدالاعلیٰ کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے دو راویوں (عطاء اور عدی) میں سے ایک نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور عدی بن ثابت ہی وہ راوی ہیں جنہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (7826) من طريق يحيى بن حكيم عن خالد بن الحارث.
اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7826) پر یحییٰ بن حکیم کے طریق سے آئے گی۔
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے کی صورت میں صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3108) عن محمد بن عبد الأعلى بهذا الإسناد. وأشار إلى أن أحد الرجلين - أي عطاء بن السائب وعدي بن ثابت - ذكره عن النبي ﷺ، أي: مرفوعًا، والذي رفعه هو عدي بن ثابت كما تقدَّم، وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3108) نے محمد بن عبدالاعلیٰ کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے دو راویوں (عطاء اور عدی) میں سے ایک نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور عدی بن ثابت ہی وہ راوی ہیں جنہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (7826) من طريق يحيى بن حكيم عن خالد بن الحارث.
اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7826) پر یحییٰ بن حکیم کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 190 سے ماخوذ ہے۔