المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى باب: اللہ کے اسمِ اعظم کا بیان کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثنا الحسن بن الصبّاح، حدثنا الأسْوَد بن عامر، أخبرنا شَرِيك، عن أبي إسحاق، عن ابن بُرَيدةَ، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ سمع رجلًا يقول: اللهمَّ إنِّي أسألُك بأنَّك أحدٌ صَمَدٌ، لم يَلِدْ ولم يُولَدْ، ولم يكن لك كُفُوًا أَحد، فقال: "لقد سألَ الله باسمِهِ الأعظم - أو الأكبر - الذي إذا دُعِي به أجابَ، وإذا سُئِل به أَعطَى" (1).
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَحَدٌ صَمَدٌ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَكَ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلے سے کہ تو ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ تو نے کسی کو جنا اور نہ تو جنا گیا، اور کوئی تیرا برابری کرنے والا نہیں ہے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اس نے اللہ سے اس کے اسمِ اعظم—یا فرمایا اسمِ اکبر—کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جس کے ساتھ پکارنے پر وہ قبول فرماتا ہے اور مانگنے پر عطا کرتا ہے۔“
یہ گزشتہ حدیث کا ایسا شاہد ہے جس کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے مگر یہ سند ضعیف ہے کیونکہ شریک بن عبداللہ القاضی اس میں مضطرب ہیں۔ کبھی وہ اسے ابواسحاق عن ابن بریدہ کہتے ہیں اور کبھی مالک بن مغول کا واسطہ بڑھا دیتے ہیں۔
فنی نکتہ: محفوظ بات یہی ہے کہ ابواسحاق نے اسے مالک بن مغول سے لیا تھا جیسا کہ ترمذی نے صراحت کی ہے۔