المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى باب: اللہ کے اسمِ اعظم کا بیان کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عِياض بن عبد الله الفِهْري، عن إبراهيم بن عُبيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ سمع رجلًا يقول: اللهمَّ إِنِّي أسألك بأنَّ لك الحمد، لا إله إلَّا أنت، المَنَّانُ، بديعُ السماوات والأرض، ذو الجَلال والإكرام، أسألُك الجنةَ، وأعوذُ بك من النار، فقال النبي ﷺ: "لقد كادَ يدعو اللهَ باسمِه الذي إذا دُعيَ به أجابَ، وإذا سُئِل به أَعطَى" (2).
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ، بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلے سے کہ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو بہت زیادہ احسان کرنے والا اور آسمانوں و زمین کا خالق ہے، اے جلال اور اکرام والے! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم کی آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے اس کے اس نام کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جس کے وسیلے سے پکارا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اور مانگا جائے تو عطا کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرجه أحمد 21/ (13798) من طريق عبد العزيز بن مسلم، عن إبراهيم بن عبيد، بهذا الإسناد. وقد سمَّى الرجل المبهم في الحديث أبا عياش زيد بن صامت الزرقي. ولفظه عنده: "لقد دعا الله باسمه الأعظم الذي … ".
حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی پچھلی کی طرح صحیح ہے۔ اگرچہ اس سند میں عیاض بن عبداللہ الفہری کی وجہ سے ضعف ہے لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: امام احمد (13798) نے اس میں مبہم شخص کا نام ابوعیاش زید بن صامت الزرقی بتایا ہے اور الفاظ ہیں: "اس نے اللہ کو اس کے اسمِ اعظم سے پکارا..."۔