حدیث نمبر: 1877
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثني أبو علي أحمد بن إبراهيم المَوْصِلي، حدثنا خَلَف بن خليفة، عن حفص ابنِ أخي أنسٍ، عن أنس بن مالك قال: كنّا مع النبيِّ ﷺ في حَلْقَةٍ، ورجلٌ قائمٌ يصلِّي، فلما رَكَعَ وسجد، تشهَّد ودعا، فقال في دُعائِه: اللهمَّ إنِّي أسألُك بأنَّ لك الحمدَ، لا إله إلَّا أنتَ، بديعُ السماوات والأرض، يا ذا الجَلال والإكرام، يا حيُّ يا قَيُّوم، فقال النبيُّ ﷺ: "لقد دعا باسمِ الله الأعظم، الذي إذا دُعِيَ به أجاب، وإذا سُئِلَ به أَعطَى" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روي من وجهٍ آخر عن أنس بن مالك:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک حلقے میں موجود تھے اور ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کیا، تشہد مکمل کیا اور دعا مانگی تو اس نے اپنی دعا میں یہ کہا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلے سے کہ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو آسمانوں اور زمین کا بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے، اے بزرگی اور انعام و اکرام والے! اے زندہ جاوید اور سب کو قائم رکھنے والے!“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کے اس اسمِ اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ساتھ پکارا جائے تو وہ جواب دیتا ہے اور جب کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1877
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل خلف بن خليفة. حفص ابن أخي أنس: قيل: هو حفص بن عبد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عمر بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن محمد بن عبد الله بن أبي طلحة، كما في ترجمته في "تهذيب الكمال" 7/ 80.» [ترقيم الرساله 1877] [ترقيم الشركة 1862]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل خلف بن خليفة. حفص ابن أخي أنس: قيل: هو حفص بن عبد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن عمر بن عبيد الله بن أبي طلحة، وقيل: حفص بن محمد بن عبد الله بن أبي طلحة، كما في ترجمته في "تهذيب الكمال" 7/ 80.
حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور خلف بن خلیفہ کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔ انس کے بھتیجے حفص کے نام میں اختلاف ہے (تہذیب الکمال 7/ 80)؛ کوئی انہیں حفص بن عبداللہ کہتا ہے تو کوئی حفص بن عبیداللہ یا حفص بن عمر۔
وأخرجه أحمد 20/ (12611) و 21/ (13570)، وأبو داود (1495)، والنسائي (1224) و (7654)، وابن حبان (893) من طرق عن خلف بن خليفة، بهذا الإسناد. ووقعت تسمية حفص عند أحمد: حفص بن عمر، وفي الموضع الثاني عند النسائي: حفص بن عبد الله. وقال ابن حبان بإثره: حفص هذا: هو حفص بن عبد الله بن أبي طلحة أخو إسحاق ابن أخي أنس لأمه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (1495)، نسائی اور ابن حبان (893) نے خلف بن خلیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان نے وضاحت کی ہے کہ یہ حفص بن عبداللہ بن ابی طلحہ ہیں جو اسحاق کے مادری بھائی ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (14205)، وابن ماجه (3858) من طريق أبي خزيمة، عن أنس بن سيرين، عن أنس بن مالك. وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي خزيمة - وهو يوسف بن ميمون الصباغ - فقد صرَّح وكيع باسمه عند ابن حبان في "المجروحين" 3/ 133 فقال: حدثنا يوسف أبو خزيمة عن أنس بن سيرين.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 19/ (14205) اور ابن ماجہ (3858) نے ابوزخیمہ عن انس بن سیرین کی سند سے روایت کیا ہے۔
علّت: یہ سند ابوزخیمہ (یوسف بن میمون الصباغ) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه الترمذي (3544) من طريق سعيد بن زربي، عن عاصم الأحول وثابت، عن أنس.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3544) نے سعید بن زربی عن عاصم الاحول و ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے۔
قال الترمذي: هذا حديث غريب من هذا الوجه. قلنا: وسعيد بن زربي هذا ضعيف.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے اس رخ سے "غریب" کہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ سعید بن زربی ضعیف راوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1877 سے ماخوذ ہے۔