المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ باب: سب سے افضل ذکر لا إله إلا الله ہے اور سب سے افضل دعا الحمد للہ ہے۔
حدیث نمبر: 1874
حدثنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق العدل ببغداد، حدثنا عبد العزيز ابن معاوية القرشي، حدثنا عبد الله بن بكرٍ السَّهْمي، حدثنا حاتم بن أبي صَغِيرة، عن أبي بَلْج، عن عمرو بن مَيمون أنه أخبره، أنه سمع عبد الله بن عمرٍو يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "ما على الأرض رجلٌ يقول: لا إله إلَّا الله، والله أكبر، وسبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا حولَ ولا قوّةَ إلَّا بالله، إلا كُفِّرت عنه ذُنوبُه، وإن كانت أكثرَ من زَبَد البحر" (1). رواه شعبة عن أبي بلج يحيى بن أبي سليم فأَوقفه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روئے زمین پر جو بھی شخص یہ کلمات کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ برائی سے ٹلنے کی ہمت ہے نہ نیکی کی طاقت“، تو اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أبي بَلْج - وهو يحيى بن أبي سليم، ويقال: ابن سليم - لكن خالف حاتمَ بنَ أبي صغيرة شعبةُ بنُ الحجاج فرواه عن أبي بلج بهذا الإسناد موقوفًا، كما في الرواية التالية، وهو الراجح لحفظ شعبة وإمامته، والله أعلم.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوبلج (یحییٰ بن ابی سلیم) کی وجہ سے "حسن" ہے، لیکن حاتم بن ابی صغیرہ کی مخالفت شعبہ بن الحجاج نے کی ہے، انہوں نے اسے ابوبلج سے اسی سند کے ساتھ "موقوف" (صحابی کا قول) روایت کیا ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے؛ اور شعبہ کے حفظ و امامت کی وجہ سے یہی (موقوف ہونا) راجح ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6479) و (6973)، والترمذي (3460) من طريق عبد الله بن بكر السهمي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6479) اور (6973) نیز امام ترمذی (3460) نے عبداللہ بن بکر السہمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد (6959)، والترمذي (3460 م)، والنسائي (9875) و (10589) من طرق عن حاتم بن أبي صغيرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6959)، ترمذی (3460 م) اور نسائی (9875) و (10589) نے حاتم بن ابی صغیرہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوبلج (یحییٰ بن ابی سلیم) کی وجہ سے "حسن" ہے، لیکن حاتم بن ابی صغیرہ کی مخالفت شعبہ بن الحجاج نے کی ہے، انہوں نے اسے ابوبلج سے اسی سند کے ساتھ "موقوف" (صحابی کا قول) روایت کیا ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے؛ اور شعبہ کے حفظ و امامت کی وجہ سے یہی (موقوف ہونا) راجح ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6479) و (6973)، والترمذي (3460) من طريق عبد الله بن بكر السهمي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6479) اور (6973) نیز امام ترمذی (3460) نے عبداللہ بن بکر السہمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد (6959)، والترمذي (3460 م)، والنسائي (9875) و (10589) من طرق عن حاتم بن أبي صغيرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6959)، ترمذی (3460 م) اور نسائی (9875) و (10589) نے حاتم بن ابی صغیرہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1874 سے ماخوذ ہے۔