المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ باب: سب سے افضل ذکر لا إله إلا الله ہے اور سب سے افضل دعا الحمد للہ ہے۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن محمد العَفْصي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي بَلْج، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن عمرٍو أنه قال: مَن قال: لا إله إلَّا الله، والله أكبر، والحمدُ لله، وسبحانَ الله كثيرًا، ولا حولَ ولا قوَّةَ إلا بالله، كُفِّرتْ خطاياهُ وإن كانت أكثرَ من زَبَدِ البحر (2). حديث حاتم بن أبي صَغِيرةَ صحيحٌ على شرط مسلم، فإنَّ الزِّيادة من مثله مقبولة.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے (ایک اور سند کے ساتھ) مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جس نے یہ کلمات کہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللهِ كَثِيرًا، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کی بہت زیادہ پاکیزگی بیان کرتا ہوں، اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کی طاقت“، تو اس کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔
حاتم بن ابی صغیرہ کی (گزشتہ مرفوع) حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ان جیسے ثقہ راوی کی طرف سے کی گئی یہ زیادتی مقبول ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوبلج کی وجہ سے حسن ہے، جس پر کلام پچھلی روایت میں گزر چکا ہے۔
وأخرجه الترمذي بإثر الحديث (3460)، والنسائي (9874) عن محمد بن بشار، عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے حدیث (3460) کے فوراً بعد اور نسائی نے (9874) میں محمد بن بشار عن محمد بن جعفر کی سند سے روایت کیا ہے۔
ورواه أبو النعمان الحكم بن عبد الله عن شعبة فخالف في لفظه، أخرجه النسائي (9873) من طريقه عن شعبة، به بلفظ: من قال: لا إله إلَّا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كفرت عنه ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر. وهذا لفظ شاذ، فأبو النعمان وإن كان ثقة، فله أوهام، ولعلَّ هذا من أوهامه، والله أعلم.
سندی اختلاف: ابوالنعمان الحکم بن عبداللہ نے اسے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے الفاظ میں مخالفت کی ہے (نسائی: 9873)۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: "جس نے یہ کلمات کہے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں"۔
فنی نکتہ: یہ لفظ "شاذ" ہے، ابوالنعمان اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہیں وہم ہو جاتا تھا، شاید یہ انہی کے اوہام میں سے ہے۔