حدیث نمبر: 1865
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل بن عيَّاش، عن راشد بن داود، عن يعلى بن شدّاد قال: حدثني أبي شدّادُ بن أوس، وعبادةُ بن الصامت حاضرٌ يصدِّقُه، قال: إِنا لَعِندَ رسول الله ﷺ إذ قال: "هل فيكم غَريبٌ؟ " - يعني أهلَ الكتاب - قلنا: لا يا رسول الله، فأمر بغَلْقِ الباب، فقال: "ارفَعوا أيدِيَكُم فقولوا: لا إله إلَّا الله" فرفعنا أيدِيَنا ساعةً، ثم وَضَعَ رسول الله ﷺ يدَه ثم قال: "الحمدُ لله، اللهم إنَّك بَعَثْتَني بهذه الكلمة، وأمرتَني بها، ووعدتَني عليها الجنةَ، إنك لا تُخْلِفُ الميعاد" ثم قال: "أبشِروا، فإنَّ الله قد غَفَرَ لكم" (2). قال الحاكم: حالُ إسماعيل بن عياش يَقرُب من الحديث قبلَ هذا، فإنه أحد أئمة أهل الشام، وقد نُسِبَ إلى سُوء الحفظ، وأنا على شَرْطي في أمثاله.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ وہاں موجود ان کی تصدیق کر رہے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں کوئی اجنبی (یعنی اہل کتاب میں سے) ہے؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! تب آپ ﷺ نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے ہاتھ اٹھاؤ اور کہو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں““، پس ہم نے تھوڑی دیر ہاتھ اٹھائے رکھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے اللہ! تو نے مجھے اسی کلمہ کے ساتھ مبعوث فرمایا، مجھے اسی کا حکم دیا اور اس پر جنت کا وعدہ فرمایا، اور بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، بے شک اللہ نے تمہیں بخش دیا ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش کا حال اس سے پچھلی حدیث کے راوی جیسا ہی ہے، وہ اہل شام کے ائمہ میں سے ہیں لیکن ان کی طرف سوءِ حفظ منسوب ہے، اور میں ان جیسے راویوں کے بارے میں اپنی شرط پر قائم ہوں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1865
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود» [ترقيم الرساله 1865] [ترقيم الشركة 1850]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود - وهو الصنعاني الدمشقي - فإنَّ له مناكير. قال الذهبي في "تلخيصه". راشد ضعَّفه الدارقطني وغيره، ووثقه دحيم.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ راشد بن داود (الصنعانی الدمشقی) ضعیف ہیں، ان کی روایات میں منکرات پائی جاتی ہیں۔
حوالہ / مصدر: امام ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں کہا ہے کہ راشد کو دارقطنی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا، جبکہ دحیم نے ان کی توثیق کی ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17121) عن أبي اليمان الحكم بن نافع، عن إسماعيل بن عياش، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 28/ (17121) میں ابو الیمان الحکم بن نافع کے واسطے سے، اسماعیل بن عیاش سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1865 سے ماخوذ ہے۔