حدیث نمبر: 1864M
سمعت الأستاذ أبا الوليد القرشي ﵁ يقول: سمعت إبراهيم بن أبي طالبٍ يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظليَّ يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر. قال الحاكم: لم أُخرِّج من أول الكتاب إلى هذا الموضع حديثًا لعمرو بن شعيب (1)، وقد ذكرتُ في أول كتاب الدعاء والتسبيح مذهبَ الإمام أبي سعيد عبد الرحمن بن مَهدي في المسامحة في أسانيدِ فضائل الأعمال.
حافظ طلحہ بابر


میں نے استاد ابوالولید قرشی رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ابراہیم بن ابی طالب سے سنا اور انہوں نے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایوب، نافع سے اور وہ ابن عمر سے روایت کریں۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب کے آغاز سے یہاں تک عمرو بن شعیب کی کوئی حدیث روایت نہیں کی تھی، اور میں نے اس کتاب کے شروع میں امام عبدالرحمن بن مہدی کا مسلک ذکر کر دیا ہے کہ فضائل اعمال کی اسناد میں نرمی برتی جا سکتی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1864M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1864M] [ترقيم الشركة 1849/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تعقب ابنُ الملقن في "مختصر تلخيص الذهبي" (126) المصنِّفَ في قوله هذا، فقال: هذا عجيب من الحاكم، فإنه أخرج له في أول الصلاة (726) حديث: "مروا الصبيان بالصلاة لسبع … " الحديث، والعجب من الذهبي كيف أقرّه على ذلك. قلنا: بل العجب من ابن الملقن، فإنه لم يتنبه أنَّ الحاكم لم يخرج هذا الحديث محتجًا به، وإنما أورده في الشواهد، بل قد أعله بعدم سماع شعيب والد عمرو من جدّه عبد الله، وقد تكلمنا على هذه العلة هناك.
اہم نکتہ: ابن الملقن نے "مختصر تلخیص الذہبی" (126) میں مصنف (امام حاکم) کے اس قول پر تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: حاکم کی یہ بات عجیب ہے، کیونکہ انہوں نے خود کتاب کے شروع میں نماز کے بیان میں (726) یہ حدیث تخریج کی ہے: "بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو..."، اور تعجب امام ذہبی پر ہے کہ انہوں نے اس پر حاکم کی موافقت کیسے کی۔
توضیح: ہم کہتے ہیں: بلکہ تعجب ابن الملقن پر ہے، کیونکہ وہ اس بات پر متنبہ نہ ہو سکے کہ امام حاکم نے اس حدیث کو بطورِ حجت (دلیل) پیش نہیں کیا، بلکہ اسے محض شواہد میں ذکر کیا ہے، بلکہ انہوں نے خود شعیب (والدِ عمرو) کا اپنے دادا عبداللہ سے سماع نہ ہونے کی وجہ سے اسے معلول (علت والی) قرار دیا ہے، اور ہم نے وہاں اس علت پر کلام کر دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1864 سے ماخوذ ہے۔