المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ باب: سب سے افضل ذکر لا إله إلا الله ہے اور سب سے افضل دعا الحمد للہ ہے۔
حدیث نمبر: 1855
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَاميّ، حدثنا موسى بن إبراهيم بن بَشِير الحَرَاميّ، قال: سمعتُ طلحة بن خِرَاش يقول: سمعتُ جابر بن عبد الله يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أفضلُ الذِّكر لا إله إلَّا الله، وأفضلُ الدعاءِ الحمدُ لله" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”افضل ترین ذکر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ ہے، اور افضل ترین دعا «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن، تفرد به موسى بن إبراهيم بن كثير عن طلحة بن خراش، وكلاهما فيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ موسیٰ بن ابراہیم اور طلحہ بن خراش دونوں کے بارے میں کلام موجود ہے جو انہیں صحیح کے درجے سے نیچے لاتا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3800) عن عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، عن موسى بن إبراهيم الحَرَامي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3800) نے عبدالرحمن بن ابراہیم الدمشقی کے واسطے سے موسیٰ بن ابراہیم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يحيى بن حبيب عن موسى بن إبراهيم برقم (1873) ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
تکرار: یہ روایت آگے نمبر (1873) پر یحییٰ بن حبیب کے طریق سے دوبارہ آئے گی اور وہیں تفصیل بیان ہوگی.
وفي الباب عن أبي ذر عند أحمد 35/ (21487)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: حضرت ابوذرؓ کی حدیث مسند احمد (35/21487) میں ہے مگر سند ضعیف ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ موسیٰ بن ابراہیم اور طلحہ بن خراش دونوں کے بارے میں کلام موجود ہے جو انہیں صحیح کے درجے سے نیچے لاتا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3800) عن عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، عن موسى بن إبراهيم الحَرَامي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3800) نے عبدالرحمن بن ابراہیم الدمشقی کے واسطے سے موسیٰ بن ابراہیم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يحيى بن حبيب عن موسى بن إبراهيم برقم (1873) ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
تکرار: یہ روایت آگے نمبر (1873) پر یحییٰ بن حبیب کے طریق سے دوبارہ آئے گی اور وہیں تفصیل بیان ہوگی.
وفي الباب عن أبي ذر عند أحمد 35/ (21487)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: حضرت ابوذرؓ کی حدیث مسند احمد (35/21487) میں ہے مگر سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1855 سے ماخوذ ہے۔