المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال: "سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال: "لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات ضرور کہتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! اے میرے پروردگار! تو اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اٹھتے وقت یہ کلمات کتنی کثرت سے پڑھتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہہ لے، تو اس مجلس میں اس سے (گفتگو کے دوران) جو کچھ بھی (خطا و لغزش) ہوئی ہو، اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، مگر زرارہ بن اوفہ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان 'سعد بن ہشام' کا واسطہ محفوظ ہے۔
فنی نکتہ: اس میں لیث بن سعد، ابن الہاد اور یحییٰ بن سعید انصاری جیسے بڑے راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (10158) من طريق شعيب بن الليث بن سعد، عن أبيه، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10158) نے شعیب بن لیث عن ابیہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وخالف شعيبًا وابنَ بكير قتيبةُ بن سعيد، فقد أخرجه النسائي (10159) عنه، عن الليث، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن رجل من أهل الشام، عن عائشة.
سندی اختلاف: قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے اسے ایک گمنام شامی شخص کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
ورجَّح الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" 1/ 629 أنَّ ذكر زرارة بن أوفى عن عائشة وهمٌ، وأنَّ الصواب أنه كان ابن زرارة عن عائشة فوقع فيه حذف، والله أعلم. وانظر "علل ابن أبي حاتم" 6/ 333 - 335.
علّت / فنی نکتہ: حافظ ابن حجر کے نزدیک زرارہ بن اوفہ کا نام وہم ہے اور درست نام 'ابن زرارہ' تھا جہاں سے کچھ لفظ حذف ہو گئے ہیں۔
وأخرج أحمد 41/ (24486)، والنسائي (1268) و (10067) و (10160) من طريق عروة عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا جلس مجلسًا، أو صلَّى، تكلم بكلمات، فسألته عائشة عن الكلمات، فقال: "إن تكلم بخير كان طابعًا عليهن إلى يوم القيامة، وإن تكلم بغير ذلك كان كفارة؛ سبحانك الله وبحمدك، لا إله إلّا أنت أستغفرك وأتوب إليك". وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/24486) اور نسائی نے عروہ عن عائشہؓ کی سند سے روایت کیا کہ نبی ﷺ محفل کے اختتام پر "سبحانک اللہم وبحمدک..." پڑھتے تھے جو نیکیوں پر مہر اور گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ یہ سند صحیح ہے۔
وأخرج أحمد 40/ (24065) و 42/ (25508)، ومسلم (484)، وابن حبان (6411) و (6412) من طريق مسروق عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يكثر أن يقول قبل أن يموت: "سبحانك وبحمدك، أستغفرك وأتوب إليك" قلت: يا رسول الله، ما هذه الكلمات التي أراك أحدثتها تقولها؟ قال: "جُعلتْ لي علامة في أمتي، إذا رأيتها قلتها" ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ إلى
آخر السورة.
حوالہ / مصدر: امام مسلم (484) اور ابن حبان نے مسروق عن عائشہؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ کلمات پڑھتے تھے کیونکہ اللہ نے سورہ نصر میں انہیں اس کا حکم دیا تھا۔
ولحديث زرارة عن عائشة شواهد من أحاديث أبي هريرة وجبير بن مطعم وأبي برزة ورافع بن خديج، وستأتي أحاديثهم على التوالي (1990 - 1993)، وانظر تمام شواهده عند حديث أبي هريرة.
متابعات و شواہد: زرارہ کی روایت کے شواہد ابوہریرہؓ، جبیر بن مطعمؓ اور دیگر صحابہ سے مروی ہیں جو آگے نمبر (1990-1993) پر آئیں گے۔