المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
الْوَصِيَّةُ لِمَنْ أَرَادَ سَفَرًا باب: سفر کا ارادہ کرنے والے کے لیے نصیحت
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدثنا أبو عاصم، حدثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: ﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ [النجم: 32]، قال: هو أن يأتي الرجلُ الفاحشة ثم يتوب منها، قال: وقال رسول الله ﷺ: "اللهمَّ إِن تَغفِرْ تَغفِرْ جمّا … وأيُّ عبدٍ لك لا ألَمّا" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجا حديث عبد الله بن طاووس عن أبيه عن ابن عباس أنه قال: لم أرَ شيئًا أقربَ باللَّمَم من الذي قال أبو هريرة: "كُتِبَ على ابن آدم حظُّه من الزنى" الحديث (2). والذي عندي أنهما تَرَكا حديثَ عمرو بن دينار للحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 180 - على شرطهماسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ ”جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں“ [سورة النجم: 32] کے بارے میں فرمایا کہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے کوئی بے حیائی کا کام سرزد ہو جائے اور پھر وہ اس سے توبہ کر لے، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اگر تو بخش دے تو سب کے سب (گناہ) بخش دے... اور تیرا کون سا بندہ ہے جس سے لغزش (چھوٹا گناہ) نہ ہوا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف عبداللہ بن طاؤس کی اپنے والد کے واسطے سے ابن عباس کی وہ روایت لی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ کے اس قول سے زیادہ کسی چیز کو «لمم» (چھوٹے گناہ) کے قریب نہیں دیکھا کہ ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے...“ الخ۔ میرے نزدیک ان دونوں نے عمرو بن دینار کی اس حدیث کو (آنے والی) اگلی حدیث کی وجہ سے چھوڑا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے کی صورت میں صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسے مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) قرار دینے میں نکارہ (ضعف) ہے جیسا کہ ابن کثیر اور ابن حجر نے صراحت کی ہے۔
اہم نکتہ: امام بیہقی کے نزدیک درست اور محفوظ بات یہی ہے کہ یہ "موقوف" روایت ہے، اور مصنف کی اگلی روایت سنداً زیادہ صحیح ہے۔
أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
نوٹ / توضیح: راوی ابوعاصم سے مراد "ضحاک بن مخلد نبیل" اور عطاء سے مراد "عطاء بن ابی رباح" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3284) عن أحمد بن عثمان النوفلي - وهو ثقة - عن أبي عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (3284) میں ثقہ راوی احمد بن عثمان النوفلی کے واسطے سے ابوعاصم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال: حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه إلا من حديث زكريا بن إسحاق.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانا جاتا ہے۔
وسيأتي برقم (3792) و (7812) من طريق روح بن عبادة عن زكريا بن إسحاق.
اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (3792) اور (7812) پر روح بن عبادہ عن زکریا بن اسحاق کے طریق سے آئے گی۔
(2) أخرجه البخاري برقم (6243) و (6612)، ومسلم برقم (2657)، وسيأتي بنحوه عند المصنف برقم (3794) من طريق أبي صالح السمّان عن أبي هريرة مرفوعًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6243، 6612) اور امام مسلم (2657) نے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: مصنف کے ہاں اس جیسی مرفوع روایت نمبر (3794) پر ابوصالح السمان عن ابی ہریرہ کے طریق سے آئے گی۔