حدیث نمبر: 1786
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، أنَّ أبا الزُّبير أخبره عن جابر بن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ أعمَرَ عائشةَ من التَّنعيم في ذي الحِجّة ليلةَ الحَصْبة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحجہ میں لیلۃ الحصبہ (منیٰ سے واپسی کی رات) کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقامِ تنعیم سے عمرہ کروایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے، ابن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، لیث سے ابن سعد اور ابوالزبیر سے محمد بن مسلم بن تدرس مراد ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (15244)، ومسلم (1213) (136)، وأبو داود (1785)، والنسائي
(3729) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وأوردوه جميعًا بأطول مما هنا ضمن قصة عائشة وحيضها في الحج. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23/15244)، مسلم (1213)، ابوداؤد (1785) اور نسائی (3729) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان سب نے اسے حضرت عائشہؓ کے حج و حیض کے طویل قصے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے (کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں ہے)۔
وأخرجه أحمد 22/ (14322)، ومسلم (1213)، والنسائي (4217) من طريقين عن أبي الزبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/14322)، مسلم اور نسائی نے ابوالزبیر کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4217) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن جابر.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4217) نے عطا بن ابی رباح عن جابرؓ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق سيأتي برقم (6130).
متابعات و شواہد: اس باب میں عبدالرحمن بن ابی بکر صدیقؓ کی روایت آگے نمبر (6130) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے، ابن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، لیث سے ابن سعد اور ابوالزبیر سے محمد بن مسلم بن تدرس مراد ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (15244)، ومسلم (1213) (136)، وأبو داود (1785)، والنسائي
(3729) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وأوردوه جميعًا بأطول مما هنا ضمن قصة عائشة وحيضها في الحج. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23/15244)، مسلم (1213)، ابوداؤد (1785) اور نسائی (3729) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان سب نے اسے حضرت عائشہؓ کے حج و حیض کے طویل قصے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے (کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں ہے)۔
وأخرجه أحمد 22/ (14322)، ومسلم (1213)، والنسائي (4217) من طريقين عن أبي الزبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/14322)، مسلم اور نسائی نے ابوالزبیر کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4217) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن جابر.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4217) نے عطا بن ابی رباح عن جابرؓ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق سيأتي برقم (6130).
متابعات و شواہد: اس باب میں عبدالرحمن بن ابی بکر صدیقؓ کی روایت آگے نمبر (6130) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1786 سے ماخوذ ہے۔