المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ باب: کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے نرم ہو
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عَمْرَويهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوص بن جوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عمران بن الجَعْد، عن ابن عباس: أنَّ قريشًا قالت: يا محمدُ، ادعُ ربَّك أن يجعل الصَّفا ذهبًا ونؤمن لك، فقال رسول الله ﷺ: "أتفعلون؟ " قالوا: نعم، فأتى جبريلُ النبي ﷺ فقال: "استوثق" ثم أتي جبريلُ فقال: "يا محمدُ، إِنَّ الله قد أعطاك ما سألت، إن شئتَ أصبحَ لك الصَّفا ذهبًا، ومن كَفَرَ بعد ذلك عذَّبتُه عذابًا لا أعذَّبه أحدًا من العالمين، وإن شئتَ فتحتُ لهم باب التوبة والإنابة" فقال رسول الله ﷺ: "بابُ التوبة والرَّحمة أحبُّ إليَّ" (1). هذا الوَهْمُ لا يُوهِنُ حديث الثوري، فإني لا أعرف عمران بن الجعد في التابعين، إنما روى إسماعيلُ بن أبي خالد عن عمران بن أبي الجعد، فأمّا عمران بن الجعد فإنه من أتباع التابعين.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے کہا: اے محمد! اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا کو سونا بنا دے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تب جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”ان سے پختہ عہد لے لیں“، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”اے محمد! اللہ نے آپ کو وہ عطا کر دیا ہے جو آپ نے مانگا ہے، اگر آپ چاہیں تو صفا آپ کے لیے سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا اسے میں ایسا عذاب دوں گا جو کائنات میں کسی کو نہیں دیا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رجوع کا دروازہ کھول دوں“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”توبہ اور رحمت کا دروازہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“
یہ وہم (نام کی تبدیلی) امام ثوری کی حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ میں تابعین میں عمران بن جعد نامی کسی شخص کو نہیں جانتا، جبکہ اسماعیل بن ابی خالد نے عمران بن ابی جعد سے روایت کی ہے، رہا عمران بن جعد تو وہ اتباعِ تابعین میں سے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سلمہ بن کُہیل "متروک الحدیث" (ناقابلِ اعتبار) راوی ہے۔