المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
شُرْبُ مَاءِ زَمْزَمَ مِنَ السِّقَايَةِ وَفَضِيلَةُ السَّقْيِ باب: سقایا سے زمزم پینا اور پانی پلانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر قال: قُرئ على ابن وهبٍ قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الله بن سالم، أنَّ عمرو بن أبي عمرٍو مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ قال: "لحمُ صيدِ البَرِّ لكم حلالٌ وأنتم حُرُم، ما لم تَصِيدُوه أو يُصادَ (1) لكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رُويَ عن مالك بن أنس وسليمانَ بن بلال عن عمرٍو متصلًا مسندًا: أما حديث مالك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لیے حلال ہے جبکہ تم احرام کی حالت میں ہو، بشرطیکہ تم نے خود اسے شکار نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسی طرح یہ روایت مالک بن انس اور سلیمان بن بلال سے بھی متصل اور مسند مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا الرواية هنا "يصاد" وهو جائز على لغةٍ، أو على أن "أو" بمعنى: "إلَّا أنَّ" وحينئذٍ فلا إشكال.
فنی نکتہ: یہاں "يصاد" (شکار کیا جائے) کی روایت ایک لغت کے مطابق جائز ہے، یا یہاں "أو" کا مطلب "إلا أن" (مگر یہ کہ) کے معنی میں ہے، اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو مولى المطلب، إن صحَّ سماع المطلب بن عبد الله من جابر، كما سلف بيانه برقم (1677).
صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور عمرو مولیٰ المطلب کی وجہ سے سند "حسن" ہے؛ بشرطیکہ مطلب بن عبداللہ کا حضرت جابرؓ سے سماع ثابت ہو (جیسا کہ پیچھے نمبر 1677 پر گزرا)۔
فنی نکتہ: یہاں "يصاد" (شکار کیا جائے) کی روایت ایک لغت کے مطابق جائز ہے، یا یہاں "أو" کا مطلب "إلا أن" (مگر یہ کہ) کے معنی میں ہے، اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو مولى المطلب، إن صحَّ سماع المطلب بن عبد الله من جابر، كما سلف بيانه برقم (1677).
صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور عمرو مولیٰ المطلب کی وجہ سے سند "حسن" ہے؛ بشرطیکہ مطلب بن عبداللہ کا حضرت جابرؓ سے سماع ثابت ہو (جیسا کہ پیچھے نمبر 1677 پر گزرا)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1766 سے ماخوذ ہے۔