حدیث نمبر: 1719
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرير، عن شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المعدِّل بمَرْو - واللفظ له - أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُرْوة بن مُضَرِّس الطائي قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بجَمْع، فقلت: يا رسول الله، جئتُك من جَبَلَي طيِّئ، وقد أكلَلْتُ مَطِيَّتي وأتعبتُ نفسي، واللهِ ما تركتُ من حَبْلٍ (1) إِلَّا وقفتُ عليه، فهل لي من حجٍّ؟ فقال رسولُ الله ﷺ: "مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ وقد أتى عَرَفاتٍ قبلَ ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد قَضَى تَفَثَه وحَجَّه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط كافَّة أئمة الحديث، وهي قاعدة من قواعد الإسلام، وقد أمسك عن إخراجه الشيخان محمدُ بنُ إسماعيل ومسلم بن الحجّاج ﵄، على أصلهما أنَّ عُرْوة بن مُضرِّس لم يحدِّث عنه غيرُ عامرٍ الشَّعبي (3)، وقد وجدنا عُروةَ بن الزُّبير بن العوَّام حدَّث عنه:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عروہ بن مدرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ مزدلفہ میں وقوف فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں طے کے دو پہاڑوں سے حاضر ہوا ہوں، میں نے اپنی سواری کو نڈھال کر دیا اور خود کو مشقت میں ڈالا، اللہ کی قسم! میں جس ٹیلے کے پاس سے گزرا اس پر وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پا لی اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات پہنچ چکا تھا، تو اس نے اپنے مناسک پورے کر لیے اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔“
یہ حدیث تمام ائمہ حدیث کی شرط پر صحیح ہے اور یہ اسلام کے اہم قواعد میں سے ایک قاعدہ ہے، امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اسے اپنی اس اصل کی بنیاد پر روایت کرنے سے گریز کیا کہ عروہ بن مدرس سے صرف عامر شعبی نے روایت کی ہے، حالانکہ ہمیں عروہ بن زبیر بن عوام کی روایت مل گئی ہے جنہوں نے ان سے حدیث بیان کی ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1719
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 1719] [ترقيم الشركة 1707]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تصحفت في المطبوع إلى: جبل، بالجيم، والصواب: حَبْل، بالحاء المهملة وسكون الباء الموحدة، والحَبْل: هو المستطيل من الرمل، قال الترمذي: إذا كان من رمل يقال له: حَبْل، وإذا كان من حجارة يقال له: جَبَل.
فنی نکتہ: مطبوعہ نسخے میں لفظ "جبل" (پہاڑ) تحریف ہو گیا ہے، درست لفظ "حَبْل" (ریت کا لمبا ٹیلہ) ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ریت ہو تو 'حبل' اور پتھر ہوں تو 'جبل' کہلاتا ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو الموجه سے مراد محمد بن عمرو فزاری، عبدان سے عبداللہ بن عثمان اور عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16208)، وأبو داود (1950)، وابن ماجه (3016)، والترمذي (891)، والنسائي (4034) و (4035)، وابن حبان (3851) من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے اسماعیل بن ابی خالد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) انظر تعليقنا على هذه المسألة عند الحديث رقم (97).
ہدایت: اس مسئلہ پر ہمارا تبصرہ حدیث نمبر (97) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1719 سے ماخوذ ہے۔