حدیث نمبر: 1718
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْحُ بن عُبادة، حدثنا شُعبة. وأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عفّان بن مسلِم، حدثنا شعبة قال: سمعتُ عبد الله بن أبي السَّفَر يقول: سمعتُ الشَّعبيَّ يحدِّث عن عُرْوةَ بن مُضَرِّس بن أوس بن حارثةَ بن لام قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بجَمْعٍ، فقلت: هل لي من حَجٍّ؟ فقال: "من صلَّى معنا هذه الصلاةَ في هذا المكان، ثم وَقَفَ معنا هذا الموقفَ حتى يُفِيضَ الإمام، [وأفاض] (1) قبلَ ذلك من عَرَفاتٍ ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حَجُّه وقَضَى تَفَثَه" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عروہ بن مدرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ اس مقام پر یہ (فجر کی) نماز پڑھی، پھر ہمارے ساتھ یہاں قیام کیا یہاں تک کہ امام کوچ کرے، اور وہ اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات آ چکا ہو، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے مناسک پورے کر لیے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1718
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الشعبي: هو عامر بن شراحيل.» [ترقيم الرساله 1718] [ترقيم الشركة 1706]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظة "وأفاض" سقطت من النسخ الخطية، واستدركناها من "السنن الصغرى" للبيهقي (1753) حيث أخرجه عن المصنِّف من جهة روح بن عبادة، وهي كذلك في "المسند" 30/ (18301) حيث أخرجه عن روح، وفي "تلخيص الذهبي": وكان وقف قبل …
توضیح: لفظ "وأفاض" (اور وہ لوٹ آیا) خطی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے ہم نے بیہقی کی "السنن الصغریٰ" اور "مسند احمد" کی مدد سے مکمل کیا ہے۔
(2) إسناده صحيح. الشعبي: هو عامر بن شراحيل.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: شعبی سے مراد عامر بن شراحیل ہیں۔
وأخرجه النسائي (4031) من طريق خالد بن الحارث، وابن حبان (3850) من طريق أبي الوليد الطيالسي، كلاهما عن شعبة، بهذا الإسناد
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4031) اور ابن حبان (3850) نے خالد بن حارث اور ابوالولید کے واسطے سے شعبہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحو لفظ الحديث التالي أحمد 26/ (16208) و (16209)، والترمذي (891)، والنسائي (4034)، وابن حبان (3851) من طريق زكريا بن أبي زائدة وداود بن أبي هند، عن الشعبي، به. ولم يذكر أحمد: داود بن أبي هند. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے زکریا بن ابی زائدہ اور داؤد بن ابی ہند کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (4032) من طريق أمية بن خالد، عن شعبة، عن سيار أبي الحكم، عن الشعبي، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4032) نے امیہ بن خالد عن شعبہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرج النسائي (4033) من طريق مطرف بن طريف، عن الشعبي، عن عروة بن مضرس قال: قال رسول الله ﷺ: "من أدرك جمعًا مع الإمام والناس حتى يفيضوا فقد أدرك الحج، ومن لم يدرك مع الناس والإمام فلم يدرك".
حوالہ / مصدر: نسائی (4033) کی روایت میں عروہ بن مضرسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو پالیا یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہوں، اس نے حج پالیا، اور جو نہ پا سکا اس کا حج نہیں ہوا"۔
وانظر تالييه.
تکرار: اس کے بعد آنے والی دو روایات کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
قوله: "قضى تفثه" قال الترمذي: يعني نُسُكه.
توضیح: امام ترمذی کے مطابق "قضیٰ تفثہ" کا مطلب ہے کہ اس نے اپنے مناسکِ حج پورے کر لیے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1718 سے ماخوذ ہے۔