المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ باب: حیا ایمان کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 171
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم المصري، حدثنا أبو غسَّان، عن حسَّان بن عطيَّة، عن أبي أُمامة الباهلي قال: قال رسول الله ﷺ: "العِيُّ والحياءُ شُعبتانِ من الإيمان، والبَذَاءُ والجَفَاءُ: شُعبتانِ من النَّفاق" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کم گوئی اور حیا ایمان کی دو شاخیں ہیں، اور بدزبانی و سنگدلی نفاق کی دو شاخیں ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ اس کا ایک صحیح شاہد ان دونوں کی شرط پر موجود ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح دون ذكر العيّ، وهذا إسناد - وإن كان رواته من رجال الشيخين - ضعيف لانقطاعه بين حسّان بن عطية وأبي أمامة كما سبق بيانه برقم (17)، فهو هناك من طريق يزيد بن هارون عن أبي غسان: وهو محمد بن مطرِّف.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سوائے لفظ "العیّ" (زبان کی لکنت/کمزوری) کے اضافے کے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کے راوی شیخین کے ہیں، مگر حسان بن عطیہ اور ابوامامہ کے درمیان "انقطاع" کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ اس کی تفصیل نمبر (17) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سوائے لفظ "العیّ" (زبان کی لکنت/کمزوری) کے اضافے کے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کے راوی شیخین کے ہیں، مگر حسان بن عطیہ اور ابوامامہ کے درمیان "انقطاع" کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ اس کی تفصیل نمبر (17) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 171 سے ماخوذ ہے۔